صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 340 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 340

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۳۴۰ ۹۲ - كتاب الفتن قَوْمَهُ وَلَكِنِّي سَأَقُولُ لَكُمْ فِيهِ قَوْلًا خطرے سے آگاہ کرتا ہوں اور کوئی بھی ایسا نبی لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ إِنَّهُ أَعْوَرُ وَإِنَّ اللهَ نہیں گزرا جس نے اپنی قوم کو اس کے خطرے لَيْسَ بِأَعْوَرَ۔ سے نہ ڈرایا ہو اور اس کے متعلق میں تم سے ایک بات کہتا ہوں کہ جو بات کسی نبی نے اپنی قوم سے نہیں کہی۔ دیکھو وہ کانا ہے اور اللہ کانا نہیں۔ أطرافه : ۳۰۵۷ ، ۳۳۳۷، ۳۴۳۹، ٤٤٠٢، ١٧٥، ١٢٣، ٧٤٠٧۔ ۷۱۲۸: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا ۷۱۲۸: يحي بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے عقیل سے، عقیل نے عَنْ سَالِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ ابن شہاب سے، ابن شہاب نے سالم سے، سالم رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نے حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت کی کہ بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ فَإِذَا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی اثنا میں رَجُلٌ آدَمُ سَبْطُ الشَّعَرِ يَنْطُفُ - أَوْ کہ میں سویا ہوا ہوں کیا دیکھتا ہوں کہ میں کا کعبہ کا طواف کر رہا ہوں ۔ اتنے میں کیا دیکھتا ہوں کہ يَهَرَاقُ - رَأْسُهُ مَاءً قُلْتُ مَنْ هَذَا؟ قَالُوا ابْنُ مَرْيَمَ ثُمَّ ذَهَبْتُ أَلْتَفِت ایک گندم گوں سیدھے بالوں والا شخص ہے جس کے سر سے پانی ٹپک رہا ہے۔ میں نے کہا: یہ کون فَإِذَا رَجُلٌ جَسِيمٌ أَحْمَرُ جَعْدُ الرَّأْسِ أَعْوَرُ الْعَيْنِ كَأَنَّ عَيْنَهُ عِبَةٌ طَافِية ہے؟ لوگوں نے کہا: ابن مریم۔ پھر جو میں مڑنے لگا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بھاری بھر کم سرخ رنگ قَالُوا هَذَا الدَّجَّالُ أَقْرَبُ النَّاسِ بِهِ کا شخص ہے گھنگھریالے بالوں والا، آنکھ سے کانا شَبَهَا ابْنُ قَطَنٍ۔ رَجُلٌ مِنْ خُزَاعَةَ۔ ایسے معلوم ہوتا تھا جیسے اس کی آنکھ پھولا ہوا انگور أطرافه : ٣٤٤٠، ٣٤٤١، ٥٩٠٢، ٦٩٩٩، ٧٠٢٦۔ ہے۔ لوگوں نے کہا: یہ دجال ہے۔ لوگوں میں سے اس سے زیادہ مشابہ ابن قطن ہے جو خزاعہ میں سے ایک شخص تھا۔ ۷۱۲۹: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ ۷۱۲۹: عبدالعزیز بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا