صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 276
۹۲ - كتاب الفتن صحیح البخاری جلد ۱۶ كَانَ مِقْدَارُهُ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ (السجدة: 1) وہ آسمان سے زمین تک اپنے حکم کو اپنی تدبیر کے مطابق قائم کرے گا۔پھر وہ اس کی طرف ایک ایسے وقت میں جس کی مقدار ایسے ہزار سال کی ہے جس کے مطابق تم دنیا میں گنتی کرتے ہو چڑھنا شروع کرے گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دور کو فیج اعوج کا نام دیا ہے۔اس کے بعد پھر بدر منیر ظاہر ہو گا اور خلافت کے ذریعہ یہ نور مصطفوی پھیلتا جائے گا۔بالآخر مرورِ زمانہ سے جب اس بروزی اور ظلی نبوت سے دوری بڑھتی جائے گی تو پھر آنے والا زمانہ پہلے سے بُرا ہو گا۔یہاں تک کہ وہ وقت آئے گا جس کے بارہ میں فرمایالًا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا عَلَى مزارِ الخلق کہ قیامت بُرے لوگوں پر آئے گی۔ہر زمانہ میں جو شر پایا جاتا ہے اس سے بچنے کے لیے خدا کی امان اور پناہ ڈھونڈنی ضروری ہے۔اسی امر کا باب کی دوسری روایت نمبر ۷۰۶۹ میں ذکر ہے۔مَن يُوقِظُ صَوَاحِبَ الْحُجُرَاتِ اِن مجروں والیوں کو کون جگائے۔خدا کے حضور تہجد اور قیام کرنے والے ہی ان فتنوں اور شرور سے بچ سکتے ہیں۔اور لباس تقوی ہی ان فتنوں سے بچا سکتا ہے۔ورنہ ظاہری پوشاکیں اور قیمتی لباس انسان کے کسی کام نہیں آتے جیسا کہ فرمایا: رُبَّ كَاسِيَةٍ فِي الدُّنْيَا عَارِيَةٍ فِي الآخِرَةِ (روایت نمبر ۷۰۶۹) کتنی ہی ہیں جو دنیا میں لباس پہنے ہوئے ہیں مگر آخرت میں تنگی ہوں گی۔بَاب : قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا: جس نے ہمارے بر خلاف ہتھیار اُٹھائے وہ ہم میں سے نہیں ۷۰۷۰: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ ٧٠٧٠: عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ کہ مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے نافع سے ، نافع اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے بْن عُمَرَ رَضِيَ حَمَلَ عَلَيْنَا السّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا۔ہم پر ہتھیار اُٹھائے وہ ہم میں سے نہیں۔طرفه : ٦٨٧٤ - ۷۰۷۱: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ۷۰۷۱ محمد بن علاء نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدِ عَنْ ابو اسامہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے برید سے ، برید أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ نے ابو بردہ سے، ابوبردہ نے حضرت ابو موسیٰ ا (صحيح مسلم، کتاب الامارة، باب قوله ﷺ لا تزال طائفة من امتى ظاهرين على الحق)