صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 253 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 253

صحیح البخاری جلد ۱۶ لهسم ۲۵۳ الله الرحمن الرحيم ۹۲ - كِتَابُ الْفِتَنِ ۹۲ - كتاب الفتن فتنۃ کے لغوی معنی ہیں امتحان لینا، آزمانا، کندن کرنا، کھرے کھوٹے میں تمیز کرنا اور فتنہ اس برے نتیجہ کو بھی کہتے ہیں جو امتحان کے ذریعہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ (لسان العرب فتن) لغت کے مشہور و مستند امام محمد بن احمد بن الأزهري (المتوفی: ۳۷۰ ہجری) لکھتے ہیں: فتن: جماعُ مَعْنى الفِتْنَةِ في كلام العرب الابتلاء والامْتِحَانُ وَأَصلها مأخوذ من قولك: فَتَلْتُ الفِضَّةَ والذَّهَبَ إِذا أذبعهما بالنار ليتميز الردىء من الجيد، ومن هَذَا قول الله جل وعرّ : يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ أَى يُحرقون بالنار ، وَمَن هَذَا قيل للحجارة السُّودِ الَّتِي كَما نَهَا أُحرقت بالنار (تهذيب اللغة، ابواب التاء والنون من الثلاثي الصحيح ، جزء ۱۴ صفحہ ۲۹۶، ۲۹۷) یعنی کلام عرب میں فتنہ کے معنی ابتلاء اور امتحان کے ہیں ، اور لفظ ” فتنہ“ ماخوذ ہے اہل عرب کے اس قول سے فتنت الفضة والذهب یعنی میں نے سونے اور چاندی کو آگ میں پگھلایا تاکہ رڈی اور اچھے کی ر ہو سکے۔ اور اسی سے اللہ عز وجل کا یہ فرمان ہے : يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُونَ ) يُفْتَنُونَ (الذاریات: (۱۴) یعنی انہیں آگ میں جلایا جائے گا۔ اس وجہ سے سیاہ پتھر فتین کہلاتا ہے گویا کہ اسے آگ پر جلایا گیا ہے۔ ابن اثیر کا کہنا ہے: الامتحان والاختبار۔۔۔ وقد كثر استعمالها فيما أخرجه الاختبار للمكروه، ثم كثر حتى استعمل بمعنى الإثم، والكفر، والقتال، والإحراق، والإزالة، والصرف عن الشيء ( النهاية في غريب الحديث، حرف الفاء، فتن، جزء۳، صفحه ۴۱۱،۴۱۰ ) تمیز فتنہ “ امتحان اور اختبار ( آزمائش ) کو کہتے ہیں، اس کا کثرت سے استعمال ناپسندیدہ آزمائش میں ہوتا ہے، پھر اس کا استعمال گناہ، کفر، قتال ولڑائی، جلانے اور زائل کرنے اور کسی چیز سے ہٹانے پر بھی ہونے لگا۔ باب ۱ : مَا جَاءَ فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً (الأنفال: ٢٦) اللہ تعالیٰ کے اس قول کے متعلق جو حدیثیں آئی ہیں یعنی اس فتنہ سے بچو جو خاص اُن لوگوں کا ہی قصد نہیں کرتا جو تم میں سے ظالم ہیں وَمَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم فتنوں سے جو چوکس کیا يُحَذِّرُ مِنَ الْفِتَنِ۔ کرتے تھے۔ ٧٠٤٨: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۷۰۴۸ : علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ