صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 1
صحيح البخاری جلد ۱۶ ۸۸- کتاب استتابة المرتدين۔۔۔ بسم الله الرحمن الرحيم ۸۸ - كِتَابُ اسْتِتَابَةِ الْمُرْتَدِينَ وَالْمُعَانِدِينَ وَقِتَالِهِمْ مرتدین اور معاندین سے توبہ کر انے اور اُن سے جنگ کرنے کے متعلق احکام شریعت 0000000 ارتداد کیا ہے ؟ امام راغب لکھتے ہیں: الارتداد والردة: الرجوع في الطريق الذي جاء منه، لكن الردة تختص بالكفر، والارتداد يستعمل فيه وفى غيره، قال تعالى: إِنَّ الَّذِينَ ارْتَدُّوا عَلَى أَدْبَارِهِمْ (محمد: ۲۶) وقال : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَنْ يَرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ ( المائدة: ۵۵)، وهو الرجوع من الإسلام الإس إلى الكفر المفردات لامام راغب - زیر لفظ رد) ارتداد اور ردہ کے معنی ہیں اس راستے پر واپس لوٹ جانا جس سے کوئی آیا ہو، لیکن رڈہ کا لفظ کفر کی طرف واپس جانے سے مختص ہے اور ارتداد کا لفظ کفر کی طرف لوٹنے یا کسی اور امر کی طرف لوٹنے کے لیے مشترک ہے۔ جیسے قرآن کریم میں فرمایا: إِنَّ الَّذِينَ ارْتَدُّوا عَلَى أَدْبَارِهِمْ (محمد : ۲۲) نیز فرمایا: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَنْ يَرْتَنَ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ (المائدة: ۵۵) کے یہ دوسری آیت اسلام سے کفر کی طرف لوٹنے کے معنوں میں آئی ہے۔ ارتداد کے متعلق یہ بحث ا یہ بحث بہت طویل ہے کہ مرتد کی سزا قتل ہے یا نہیں۔ اسزا عمل ہے یا نہیں ہے۔ امام بخاری م بخاری عنوان میں جوا جو الفاظ لائے ہیں ان سے یہ اصولی راہنمائی ملتی ہے یعنی استِتَابَةُ الْمُرْتَدِين مرتدین سے تو بہ کرانا، وَقِتَالُهُمْ اور ان سے جنگ کرنا۔ دراصل یہی اس معاملہ کی اصل ہے کہ ہر مرتد کی سزا قتل نہیں ہے بلکہ ہر ایک کے لئے توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔ اگر مرتد توبہ کی بجائے بغاوت اور قتال پر اتر آئے تو اس سے مدافعانہ جنگ ہو گی۔ اس امر کو سمجھنے کے لئے ان الفاظ پر غور کرنا ضروری ہے جو احادیث میں مرتدین کے متعلق استعمال ہوئے ہیں۔ وہ یہ ہیں: (۱) مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ (۲) مَنْ خَالَفَ دِينَهُ دِينَ الْإِسْلَامِ (۳) مَنْ غَيَّرَ دِينَهُ (۴) ارْتَدَّ عَنِ الْإِسْلَامِ (۵) كَفَرَ بَعْدَ الْإِسْلَامِ (1) الْمَارِقُ لِدِينِهِ الْفَارِقُ الْجَمَاعَةِ (٧) رَجُلٌ خَرَجَ مُحَارِبًا لِلهِ وَرَسُولِهِ (۸) رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنَ الْإِسْلَامِ فَيُحَارِبُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ (۹) رَجُلٌ حَارَبَ اللهَ وَرَسُولَهُ وَارْتَدَّ عَنِ الْإِسْلَامِ (١٠) حَارَبَ اللهَ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (۱۱) النَّارِكَ لِدِينِهِ الْمَفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ ان الفاظ سے ظاہر ہے بعض احادیث میں ارتداد کا ذکر ہے اور بعض احادیث جو صحیح بخاری اور دیگر صحاح ستہ میں ہیں ان میں ارتداد کے ساتھ محاربہ کی شرط ہے۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ہر مرتد کی سزا قتل ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: یقینا وہ لوگ جوا : یقینا وہ لوگ جو اپنی پیٹھ دکھاتے ہوئے مرتد ہو گئے۔“ ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: اے وہ لوگو جو ایمان لا۔ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! تم میں سے ج؟ میں سے جو اپنے دین سے مرتد ہو جائے۔“