صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 218 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 218

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۲۱۸ ۹۱ - كتاب التعبير مستقیم پر چلنے والے اور اسلام کے بچے تابع ہوں حالانکہ دوسری حدیثوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دنبال خدائی کا دعوی کرے گا پھر اس کو خانہ کعبہ کے طواف سے کیا کام ہے۔اس کا علماء نے یہ جواب دیا ہے کہ ایسے الفاظ و کلمات کو ظاہر پر حمل کرنا بڑی غلطی ہے یہ تو در حقیقت مکاشفات اور خوابوں کے پیرایہ میں بیانات ہیں جن کی تعبیر و تاویل کرنی چاہیئے جیسا کہ عام طور پر خوابوں کی تعبیر کی جاتی ہے سو اس کی تعبیر یہ ہے کہ طواف لعنت میں گرد پھرنے کو کہتے ہیں اور اس میں شک نہیں کہ جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے نزول کے وقت میں اشاعت دین کے کام کے گرد پھریں گے اور اس کا انجام پذیر ہو جانا چاہیں گے ایسا ہی مسیح دجال بھی اپنے ظہور کے وقت اپنے فتنہ اندازی کے کام کے گرد پھرے گا اور اُس کا انجام پذیر ہو جانا چاہے گا۔اب کہاں ہیں وہ حضرات مولوی صاحبان جو ان حدیثوں کے الفاظ کو حقیقت پر حمل کرنا چاہتے ہیں اور اُن کے معانی کو ظاہر عبارت سے پھیر نا کفر و الحاد سمجھتے ہیں ذرہ اپنے گریبان میں منہ ڈال کر دیکھیں کہ سلف صالح نے اس حدیث کے معنے کرنے کے وقت مسیح دجال کے طواف کرنے کو ایک خواب کا معاملہ سمجھ کر کیسی اس کی تعبیر کر دی ہے جو ظاہر الفاظ سے بہت بعید ہے پھر جس حالت میں لا چار ہو کر اُن مکاشفات کی ایک جزو کی تعبیر کی گئی تو پھر کیا وجہ کہ باوجود موجود ہونے قرائن قویہ کے دوسری جزوں کی تعبیر نہ کی جائے۔واضح ہو کہ جس طرح ہمارے علماء نے مسیح دجال کے طواف کو ایک کشفی امر سمجھ کر اُس کی ایک روحانی تعبیر کر دی ہے ایسا ہی خود جناب خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی مقامات میں ظاہر فرما دیا کہ جو کچھ میرے پر کشفی طور پر کھلتا ہے جب تک منجانب اللہ قطعی اور یقینی معنے اس کے معلوم نہ ہوں میں ظاہر پر حمل نہیں کر سکتا۔آپ فرماتے ہیں: >> (ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۰۳،۲۰۲) مسیح موعود کا ایساد کھائی دینا کہ گویا وہ حمام سے غسل کر کے نکلا ہے اور موتیوں کے دانوں کی طرح آپ غسل کے قطرے اُس کے سر پر سے ٹکتے ہیں اس کشف کے معنے یہ ہیں کہ مسیح موعود اپنی بار بار کی تو بہ اور تضرع سے اپنے اس تعلق کو جو اس کو خدا کے ساتھ ہے