صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 197
صحیح البخاری جلد ۱۶ 192 ۹ - كتاب التعبير وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجْتَرُّهُ قَالُوا فَمَا أَوَّلْتَهُ سے نیچے تک پہنچتی تھیں اور عمر بن خطاب بھی يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ الدِّينَ۔میرے سامنے پیش کیے گئے۔انہوں نے بھی قمیص پہنی ہوئی تھی جس کو وہ گھسیٹ رہے تھے۔أطرافه: ۲۳، ۳۶۹۱، ۷۰۰۸- صحابہ نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ نے اس کی کیا تعبیر کی؟ آپ نے فرمایا: دین۔بَاب ۱۹ : الْخُضْرُ فِي الْمَنَامِ وَالرَّوْضَةُ الْخَضْرَاءُ خواب میں سبزی یا سر سبز باغ دیکھنا فِي ۷۰۱۰: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ٧٠١٠: عبد اللہ بن محمد جعفی نے ہم سے بیان کیا الْجُعْفِيُّ حَدَّثَنَا الحَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ که حرمی بن عمارہ نے ہمیں بتایا۔قرہ بن خالد نے حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ہم سے بیان کیا۔قرہ نے محمد بن سیرین سے قَالَ قَيْسُ بْنُ عُبَادٍ كُنْتُ سيرين روایت کی کہ (انہوں نے کہا:) قیس بن عباد کہتے حَلْقَةٍ فِيهَا سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ وَابْنُ عُمَرَ تھے۔میں ایک حلقے میں بیٹھا تھا جس میں فَمَرَّ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ فَقَالُوا هَذَا حضرت سعد بن مالک اور حضرت ابن عمرؓ بھی رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَقُلْتُ لَهُ إِنَّهُمْ تھے۔اتنے میں حضرت عبداللہ بن سلامم گزرے۔لوگوں نے کہا: یہ شخص جنتیوں میں قَالُوا كَذَا وَكَذَا قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ مَا سے ہے۔میں نے حضرت عبد اللہ بن سلام سے كَانَ يَنْبَغِي لَهُمْ أَنْ يَقُولُوا مَا لَيْسَ کہا کہ لوگوں نے ایسا ایسا کہا ہے۔انہوں نے کہا۔لَهُمْ بِهِ عِلْمٌ إِنَّمَا رَأَيْتُ كَأَنَّمَا عَمُودٌ سبحان اللہ انہیں شایاں نہیں کہ وہ بات کہیں وُضِعَ فِي رَوْضَةٍ خَضْرَاءَ فَنُصِبَ جس کا ان کو علم نہیں۔اصل بات یہ ہے کہ میں فِيهَا وَفِي رَأْسِهَا عُرْوَةٌ وَفِي أَسْفَلِهَا نے خواب میں دیکھا تھا کہ جیسے ایک ستون ہے مِنْصَفْ - الْمِنْصَفُ الْوَصِيفُ - جو سر سبز باغ میں نصب کیا گیا ہے اور اس کی فَقِيلَ ارْقَهُ فَرَقِیتُ حَتَّى أَخَذْتُ چوٹی پر ایک کنڈ الگا ہوا ہے اور اس کے نیچے ایک