صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 127 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 127

صحيح البخاری جلد ۱۹ ۱۲۷ ۹۰ کتاب الحيل الشُّفَعَةَ فِي كُلّ مَالَمْ يُقسم : جو شفعہ کا حق رکھا ہے تو وہ ہر ایک ایسی جائیداد میں ہے جو تقسیم نہ کی گئی ہو۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ فرماتے ہیں: ”یہاں مطلق شراکت کا سوال ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد مندرجہ روایت نمبر ۲۲۱۳ کا تعلق بظاہر الفاظ اس شفعہ سے ہے جس میں شرکاء کی ملکیت میں شراکت ہو، جیسا کہ الفاظ في كُلِّ مَالٍ لَّمْ يُقسم دلالت کرتے ہیں۔جیسا کہ تجارتی کمپنیوں وغیرہ میں شراکت کی صورت ہوتی ہے۔اگر کوئی شریک اپنا حصہ بیچنا چاہے تو پہلا حق شرکاء کا ہو گا۔(اس تعلق میں کتاب الشفعہ روایت نمبر ۷ ۲۲۵ بھی دیکھئے) شراکت کی صورت میں محض قرب و جوار سے حق شفعہ پیدا نہیں ہو تا بلکہ شر کاء کا حق مقدم ہوتا ہے۔" ( صحیح بخاری ترجمه و شرح كتاب البيوع، شرح باب بَيْعُ الرِيكِ من شريكه، جلد ۴ صفحه ۱۷۶) آپ مزید فرماتے ہیں: ” جب تک مشترکہ جائیداد تقسیم ہو کر اُس کی حدود، اس میں آنے جانے کے راستے متعین نہ ہو جائیں تو اگر حصہ دار اپنا حصہ بیچنا چاہے تو دوسرے حصہ دار کو بوجہ شرکت شفعہ کا حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ خریدے لیکن جب جائیداد تقسیم ہو جائے اور اس کی حد قائم ہو کر ہر شریک کا حصہ جائیداد الگ ہو جائے اور اس کے آنے جانے کا راستہ بھی مقرر ہو کر شرکت کی صورت قائم نہ رہے تو پھر حق شفیع بوجہ شرکت قائم نہ رہے گا۔حق شفعہ کی صحت کے لئے مندرجہ ذیل شرطیں مستنبط ہوتی ہیں: ا۔مشترکہ جائیداد میں جو قابل تقسیم ہو ، شفعہ کا حق اس وقت ہو گا جب کوئی شریک اسے فروخت کرنا چاہے تو اس کو لینے کا پہلا حقدار اس کا شریک ہو گا۔۲۔نا قابل تقسیم جائیداد میں حق شفعہ نہیں۔ناقابل تقسیم سے مراد یہ ہے کہ تقسیم ہونے پر وہ نفع مند نہ رہے۔مثلاً چھوٹاسا حمام یعنی غسل خانہ ہے یا تنگ گلی ہے۔اگر ایسی جائیداد تقسیم کی جائے تو نہ گلی کار آمد رہے گی نہ حمام۔جو جائیداد قابل تقسیم اور قابل انتقال ہو۔یعنی ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جائی جاسکتی ہے، اس میں بھی حق شفعہ نہیں۔مثلاً اثاث البیت وغیرہ۔