صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 83 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 83

صحيح البخاری جلد ۱۹ AM ۸۹ - كتاب الإكراه تشریح۔إِذَا اسْتُكْرِهَتِ الْمَرْأَةُ عَلَى الرِّنَا فَلَا حَدَّعَلَيْهَا: اگر عورت کو زنا پر مجبور کیا جائے تو اس عورت کو شرعی سزا نہ ہو گی۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ آیت وَمَنْ يُكْرِهُنَّ فَإِنَّ اللَّهَ مِن بَعْدِ إِكْرَاهِهِنَّ غَفُورٌ رَّحِیم کی تفسیر میں فرماتے ہیں: اور جو شخص آزادی کی کوشش کرنے والی عورت کے راستہ میں روک ڈالتا ہے اور اس طرح اسے جبری نکاح پر مجبور کرتا ہے تو اس کے نتیجہ میں اس کے دل میں جو بغض پیدا ہو گا اُس کی وجہ سے عورت پر کوئی گناہ نہیں ہوگا، مرد کو ہو گا کیونکہ عورت کے دل میں جو بے وفائی پیدا ہو گی وہ مرد کے جبر کی وجہ سے ہو گی۔“ ( تفسير كبير ، تفسير سورة النور، آیت ۳۴، جلد ۶ صفحه ۳۱۴) روایت نمبر ۶۵۵۰ میں حضرت ابراہیم اور حضرت سارہ کا جو واقعہ بیان کیا گیا ہے یہ ماضی کے قصوں میں سے ایک قصہ ہے، حقیقت سے اس کا تعلق نہیں ہے۔باب ۷ يَمِينُ الرَّجُلِ لِصَاحِبِهِ إِنَّهُ أَخُوهُ إِذَا خَافَ عَلَيْهِ الْقَتْلَ أَوْ نَحْوَهُ آدمی کا اپنے ساتھی کے متعلق قسم کھانا کہ وہ اس کا بھائی ہے جب اسے اس کے قتل وغیرہ کا ڈر ہو وَكَذَلِكَ كُلُّ مُكْرَهِ يُخَافُ فَإِنَّهُ يَذُبُ اور اس طرح ہر وہ شخص جس پر جبر کیا جائے جو عَنْهُ الْظَالِمَ وَيُقَاتِلُ دُونَهُ وَلَا يَخْذُلُهُ ڈرتا ہو تو وہ اس سے ظلموں کو دور کرے اور اُس فَإِنْ قَاتَلَ دُونَ الْمَظْلُومِ فَلَا قَوَدَ عَلَيْهِ سے مدافعت کرے اور اُس کو چھوڑ نہ دے۔اگر وَلَا قِصَاصَ وَإِنْ قِيلَ لَهُ لَتَشْرَبَنَّ الْخَمْرَ مظلوم سے مدافعت کرے تو اُس پر نہ دیت ہو گی اور نہ ہی قصاص اور اگر اس سے کہا جائے کہ تمہیں أَوْ لَتَأْكُلَنَّ الْمَيْتَةَ أَوْ لَتَبِيعَنَّ عَبْدَكَ شراب ضرور پینی ہو گی یا مر دار ضرور کھانا ہو گا یا أَوْ تُقِرُّ بِدَيْنِ أَوْ تَهَبُ هِبَةٌ أَوْ تَحُلُّ یہ کہ تم اپنے غلام کو ضرور پیچ دو یا اتنے قرضے کا عُقْدَةً، أَوْ لَتَقْتُلَنَّ أَبَاكَ أَوْ أَخَاكَ فِي اقرار کر لو یا کوئی ہبہ کر دو یا نکاح توڑ دو، ورنہ ہم الْإِسْلَامِ وَمَا أَشْبَهَ ذَلِكَ وَسِعَهُ ذَلِكَ تمہارے باپ یا تمہارے بھائی کو مار ڈالیں گے۔لِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسلام میں اس کے لئے اس بات کی وسعت ہے الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ۔وَقَالَ بَعْضُ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان مسلمان