صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 749
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۸۷ - كتاب الديات عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ أَقَادَ رَجُلًا اُن میں سے انچاس آدمیوں نے قسم کھائی اور اُن بِالْقَسَامَةِ ثُمَّ نَدِمَ بَعْدَ مَا صَنَعَ فَأَمَرَ میں سے ایک شخص شام سے آیا تھا تو لوگوں نے اسے بِالْخَمْسِينَ الَّذِينَ أَقْسَمُوا فَمُحُوا بھی کہا کہ وہ قسم کھائے مگر اس نے قسم کے بدلے مِنَ الدِّيوَانِ وَسَيَّرَهُمْ إِلَى الشَّأْمِ۔ایک ہزار درہم دے کر اپنے آپ کو ان سے چھڑا لیا اور اُنہوں نے اس کی جگہ ایک اور شخص اندر بھیجوایا۔تو حضرت عمرؓ نے یہ قاتل مقتول کے بھائی کے حوالے کر دیا۔اس کا ہاتھ اس کے ہاتھ سے باندھ دیا گیا۔لوگ کہتے تھے کہ وہ دونوں چل پڑے اور وہ پچاس آدمی بھی جنہوں نے قسمیں کھائی تھیں۔جب وہ نخلہ میں پہنچے تو بارش نے اُنہیں آگھیرا اور وہ پہاڑی کی ایک غار میں گھس گئے اور وہ غار اُن پچاس پر آگری جنہوں نے قسمیں کھائی تھیں اور وہ سب کے سب مر گئے اور وہ دونوں ساتھی (قاتل و مقتول کا بھائی) وہاں سے بھاگ نکلے اور ان دونوں کے پیچھے ایک پتھر آیا اور اس نے مقتول کے بھائی کی ٹانگ توڑ دی وہ ایک سال زندہ رہا اور مر گیا۔(ابو قلابہ کہتے تھے:) میں نے کہا: عبد الملک بن مروان نے بھی قسموں کی بنا پر ایک شخص سے قصاص لیا تھا، پھر وہ اپنے کیے کے بعد پشیمان ہوئے اور اُنہوں نے اُن پیچاس آدمیوں کے متعلق کہ جنہوں نے قسمیں کھائی تھیں حکم دیا اور اُن کا نام دفتر سے مٹادیا گیا اور اُنہوں نے اُن کو شام کی طرف جلا وطن کر دیا۔أطرافه : ٢٣٣، ١٥٠١ ، ،۳۰۱۸، ۱۹۲ ٤۱۹۳، ٤٦١٠، ٥٦٨٥، ٥٦٨٦، ٥٧٢٧، ٦٨٠٢، -٦٨٠٣، ٦٨٠٤، ٦٨٠٥