صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 743
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۷۴۳ ۸۷ - كتاب الديات أَحَدٌ إِلَّا لُدَّ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَّا الْعَبَّاسَ فَإِنَّهُ منہ میں دوائی نہ ڈالو؟ کہتے تھے: ہم نے کہا کہ لَمْ يَشْهَدُكُمْ۔ آپ دوا سے نفرت کرنے کی وجہ سے کہہ رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی باقی نہ رہے مگر اس کے حلق میں دوائی ڈالی جائے اور میں دیکھوں گا سوائے عباس کے أطرافه: ٤٤٥٨، ٥٧١٢، ٦٨٨٦۔ کیونکہ وہ تمہارے ساتھ موجود نہ تھا۔ بَاب ۲۲ : الْقَسَامَةُ شہادت کے نہ ہونے پر قسمیں دلوانا وَقَالَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ قَالَ النَّبِيُّ اور الشر حضرت اشعث بن قیس نے کہا: نبی صلی الہ ہم نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاهِدَاكَ أَوْ فرمایا: تمہارے دو گواہ ہوں یا اُس سے قسم لی جائے يَمِينُهُ۔ وَقَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ لَمْ يُقِدْ گی اور ابن ابی ملیکہ نے کہا: حضرت معاویہؓ نے بِهَا مُعَاوِيَةٌ وَكَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قسموں کی بنا پر بدلہ نہیں لیا اور حضرت عمر بن إِلَى عَدِيِّ بْنِ أَرْطَاةَ وَكَانَ أَمَّرَهُ عَلَى عبدالعزیز نے عدی بن ارطاۃ کو جن کو اُنہوں نے بصرہ کا امیر مقرر کیا تھا ایک مقتول کے متعلق لکھا الْبَصْرَةِ فِي قَتِيلٍ وُجِدَ عِنْدَ بَيْتٍ مِنْ جسے گھی فروشوں کے گھروں میں سے ایک گھر کے بُيُوتِ السَّمَانِينَ إِنْ وَجَدَ أَصْحَابُهُ قریب پایا گیا تھا کہ اگر اس کے وارث ثبوت لائیں بَيِّنَةً وَإِلَّا ، فَلَا تَظْلِمِ النَّاسَ فَإِنَّ هَذَا تو فبہا، ورنہ لوگوں پر ظلم نہ کرو کیونکہ ایسے معاملے لَا يُقْضَى فِيهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ۔ میں تو قیامت کے دن تک فیصلہ نہیں ہو گا۔ ٦٨٩٨ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ۶۸۹۸: ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سعید بن سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ عبید نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے بشیر بن یسار سے زَعَمَ أَنَّ رَجُلًا مِّنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: ایک انصاری شخص سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ نَفَرًا جسے سہل بن ابی حشمہ کہتے تھے نے اُن کو بتایا کہ مِنْ قَوْمِهِ انْطَلَقُوا إِلَى خَيْبَرَ فَتَفَرَّقُوا ان کی قوم میں سے چند لوگ خیبر کی طرف گئے اور