صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 721 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 721

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۷۲۱ ۸۷ - كتاب الديات وَالْمُؤْمِنِينَ، أَلَا وَإِنَّهَا لَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ نے فرمایا: اللہ نے مکہ سے ہاتھیوں کو روک دیا تھا قَبْلِي وَلَا تَحِلُّ لِأَحَدٍ مِّنْ بَعْدِي أَلَا اور اس نے اپنے رسول اور مومنوں کو مکہ والوں پر وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَّهَارٍ أَلَا غالب کر دیا ہے۔سنو! یہ مکہ مجھ سے پہلے کسی کے لئے جائز نہیں ہوا اور نہ ہی وہ میرے بعد کسی کے وَإِنَّهَا سَاعَتِي هَذِهِ حَرَامٌ، لَا يُخْتَلَى شَوْكُهَا وَلَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا وَلَا يَلْتَقِطُ لئے جائز ہو گا۔سنو ! اور وہ میرے لئے بھی صرف دن کی ایک گھڑی کے لئے ہی جائز کیا گیا۔سنو کہ سَاقِطَتَهَا إِلَّا مُنْشِدٌ، وَمَنْ قُتِلَ لَهُ وہ اب اس وقت حرم ہے اس کے کانٹے نہ اکھیڑے قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ إِمَّا أَنْ جائیں اور اس کے درخت نہ توڑے جائیں اور اس يُودَى وَإِمَّا أَنْ يُقَادُ۔فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ کی گری پڑی چیز کوئی نہ اُٹھائے مگر وہ جو اس کے أَهْلِ الْيَمَنِ يُقَالُ لَهُ أَبُو شَاءٍ فَقَالَ متعلق اعلان کرنے والا ہو اور جس کا کوئی مارا جائے اكْتُبْ لِي يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ تو دو باتوں میں سے ایک بات کے اختیار کرنے کا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وہ مجاز ہے یا اسے دیت دی جائے یا اس کا بدلہ لیا اكْتُبُوا لِأَبِي شَاهِ ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ مِنْ جائے۔یہ سن کر اہل یمن میں سے ایک شخص کھڑا قُرَيْشٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا الْإِذْخِرَ ہوا جسے ابوشاہ کہتے تھے اس نے کہا: یارسول اللہ ! مجھے یہ لکھ دیں۔رسول اللہ نے فرمایا: ابوشاہ کو یہ فَإِنَّمَا نَجْعَلُهُ فِي بُيُوتِنَا وَقُبُورِنَا فَقَالَ حکم لکھ دو۔پھر اس کے بعد قریش میں سے ایک شخص رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا اٹھا اس نے کہا: یا رسول اللہ سوائے اذخر گھاس الْإِذْخِرَ۔وَتَابَعَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ شَيْبَانَ کے کیونکہ ہم اس کو اپنے گھروں اور قبروں میں فِي الْفِيلِ۔وَقَالَ بَعْضُهُمْ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ کام میں لاتے ہیں تو رسول اللہ صلی یم نے فرمایا: اذخر الْقَتْلَ۔وَقَالَ عُبَيْدُ اللهِ إِمَّا أَنْ يُقَادَ کے سوا۔اور (حرب بن شداد کی طرح) عبید اللہ بن موسیٰ) نے بھی شیبان سے روایت کرتے ہوئے ہاتھیوں کے متعلق ذکر کیا بعض راویوں نے ابونعیم سے روایت کرتے ہوئے (قتیل کی بجائے) قتل کا لفظ نقل کیا اور عبید اللہ بن موسیٰ) نے یوں کہا: یا مقتول کے وارثوں کو اس کا بدلہ دیا جائے۔أَهْلُ الْقَتِيلِ۔أطرافه: ١١٢، ٢٤٣٤ -