صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 720
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۷۲۰ ۸۷ - كتاب الديات أَوْضَاحٍ لَهَا فَقَتَلَهَا بِحَجَرٍ فَجِيءَ نے ایک لڑکی کو مار ڈالا کچھ زیوروں کی وجہ سے جو بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اس نے پہنے ہوئے تھے ، اس نے اُس لڑکی کو پتھر وَبِهَا رَمَقٌ فَقَالَ أَقَتَلَكِ فُلَانٌ؟ سے مارا۔لوگ اس لڑکی کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لَا ثُمَّ قَالَ الثَّانِيَةَ پاس لے آئے ابھی اس میں کچھ جان باقی تھی۔فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لَا ثُمَّ سَأَلَهَا آپ نے پوچھا: کیا تمہیں فلاں نے مارا ہے ؟ اس الثَّالِقَةَ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ نَعَمْ۔نے سر سے اشارہ کیا نہیں۔پھر آپ نے دوبارہ فَقَتَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وچھا، اس نے اپنے سر سے اشارہ کیا نہیں۔پھر آپ نے تیسری بار پوچھا تو اس نے کہا: ہاں۔نبی بِحَجَرَيْنِ۔صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قاتل کو دو پتھروں سے مروا ڈالا۔أطرافه ٢٤١٣، ٢٧٤٦، ۵۲۹٥، ۶۸۷۶، ٦٨۷۷، ٦٨٨٤، ٦٨٨٥- بَاب : مَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ جس شخص کا کوئی مارا جائے تو وہ دو باتوں میں سے ایک بات کے اختیار کرنے کا مجاز ہے ٦٨٨٠ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا :۶۸۸۰: ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ شیبان نے شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ ہمیں بتایا۔انہوں نے بجی ( بن ابی کثیر) سے، يحجي أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ جُزَاعَةَ قَتَلُوا رَجُلًا نے ابو سلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی کہ خزاعہ نے ایک شخص کو مار ڈالا۔اور وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَرْبٌ۔۔عَنْ يَحْيَى حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ حَدَّثَنَا عبد اللہ بن رجاء نے کہا: ہم سے حرب ( بن شداد) نے یحی بن ابی کثیر ) سے روایت کرتے ہوئے أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّهُ عَامَ فَتْحٍ مَكَّةَ قَتَلَتْ بیان کیا کہ ہمیں ابو سلمہ نے بتایا کہ حضرت ابو ہریرہ جُزَاعَةُ رَجُلًا مِّنْ بَنِي لَيْثٍ بِقَتِيلِ لَهُمْ نے ہم سے بیان کیا۔جس سال مکہ فتح کیا گیا خزاعہ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّی نے بولیٹ کے ایک شخص کو اپنے ایک مقتول کے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ اللهَ حَبَسَ بدلے جس کو زمانہ جاہلیت میں مارا گیا تھا مار ڈالا۔مَكَّةَ الْفِيلَ وَسَلَّطَ عَلَيْهِمْ رَسُولَهُ یہ دیکھ کر رسول اللہ لی لی کم کھڑے ہوئے اور آپ عَنْ