صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 708
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۸۷ - كتاب الديات وَقَوْلُ النُّورِ أَوْ قَالَ وَشَهَادَةُ النُّورِ نے فرمایا: بڑے سے بڑے گناہ یہ ہیں۔ اللہ کا أطرافه: ٢٦٥٣ ، ٥٩٧٧ شریک ٹھہرانا، جان کو مار ڈالنا اور والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹ بولنا یا فرمایا اور جھوٹی شہادت دینا۔ ٦٨٧٢ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ :۶۸۷۲: عمرو بن زرارہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ حَدَّثَنَا ہشیم نے ہمیں بتایا حسین ( بن عبد الرحمن) نے ہم أَبُو ظَبْيَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَسَامَةَ بْنَ سے بیان کیا ۔ حصین نے ابو ظبیان سے ، ابوظبیان زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يُحَدِّثُ نے کہا : میں نے حضرت اسامہ بن زید بن حارثہ قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله رضی اللہ عنہما سے سنا۔ اُنہوں نے بیان کرتے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْحُرَقَةِ مِنْ جُهَيْنَةَ ہوئے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قَالَ فَصَبَّحْنَا الْقَوْمَ فَهَزَمْنَاهُمْ، قَالَ حُرقہ قبیلے کی طرف بھیجا جو جہینہ کی ایک شاخ وَلَحِقْتُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ رَجُلًا ہیں۔ کہتے تھے: ہم نے اس قوم پر صبح کو چھاپا مارا إِلَّا اللهُ قَالَ فَكَفَّ عَنْهُ الْأَنْصَارِيُّ اور اُن کو شکست دے کر بھگا دیا۔ بیان کرتے مِنْهُمْ قَالَ فَلَمَّا غَشِينَاهُ قَالَ لَا إِلَهَ تھے کہ میں اور ایک انصاری شخص ان میں سے ایک آدمی کے پیچھے لگے ۔ کہتے تھے: جب ہم نے فَطَعَنْتُهُ بِرُمْحِي حَتَّى قَتَلْتُهُ، قَالَ فَلَمَّا اس کو گھیر لیا اس نے لَا إِلَهَ إِلَّا الله کہا۔ حضرت قَدِمْنَا بَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ اُسامہ نے کہا: یہ سن کر انصاری اس سے رک عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَالَ لِي يَا أُسَامَةُ گیا اور میں نے اپنا بر چھا مار کر اُسے مار ڈالا۔ کہتے أَقَتَلْتَهُ بَعْدَ مَا قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟ ہیں : جب ہم مدینہ میں آئے تو یہ خبر نبی صلی اللہ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ إِنَّمَا كَانَ علیہ وسلم کو پہنچی۔ کہتے تھے : تھے: آپ نے مجھ سے فرمایا: مُتَعَوِّذًا ۔ قَالَ {أَ } قَتَلْتَهُ بَعْدَ مَا اُسامہ کیا تم نے اُس کو لا إِلَهَ إِلَّا اللہ کہنے کے قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؟ قَالَ فَمَا زَالَ بعد مار ڈالا۔ کہتے تھے: میں نے کہا: یا رسول اللہ ! وہ يُكَرِّرُهَا عَلَيَّ حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي لَمْ تو صرف جان بچارہا تھا۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تم نے ا فتح الباری مطبوعہ بولاق میں لفظ ”ا“ ہے۔ ( فتح الباری جزء ۱۲ حاشیہ صفحہ ۲۳۸) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔