صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 606 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 606

صحیح البخاری جلد ۱۵ عَنِ ۶۰۶ ۸۶ کتاب الحدود غِيَاثٍ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَسُ کیا کہ میرے باپ نے مجھے بتایا۔اعمش نے ہم قَالَ سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ سے بیان کیا۔اعمش نے کہا: میں نے ابو صالح سے النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سنا۔اُنہوں نے حضرت ابوہریرہ سے، حضرت لَعَنَ اللهُ السَّارِقَ يَسْرِقُ الْبَيْضَةَ ابوہریرۃ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی فَتُقْطَعُ يَدُهُ وَيَسْرِقُ الْحَبْلَ فَتُقْطَعُ آپ نے فرمایا: اللہ چور کو اپنی رحمت سے دور يَدُهُ۔قَالَ الْأَعْمَسُ كَانُوا يَرَوْنَ أَنَّهُ رکھے کہ وہ انڈا چراتا ہے اور اُس کا ہاتھ کاٹا جاتا بَيْضُ الْحَدِيدِ وَالْحَبْلُ كَانُوا يَرَوْنَ ہے اور وہ رستی چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔اعمش نے کہا: لوگ سمجھتے تھے کہ بیضہ سے أَنَّهُ مِنْهَا مَا يُسَاوِي دَرَاهِمَ۔طرفه: ٦٧٩٩۔مراد لوہے کا خود ہے اور حبل سے مراد وہ سمجھتے تھے کہ وہ رتی ہے جو کئی درہموں کی قمیت کی ہو۔تشریح : لَعْنُ السَّارِقِ إِذَا لَمْ يُسَمَّ : چور پر لعنت کرنا بشر طیکہ اس کا نام نہ لیا جائے۔باب ۴ کی روایت ۶۷۷۷ میں اور باب ۵ کی روایت ۶۷۸۱،۶۷۸۰ میں شراب پینے والے پر لعنت سے منع کیا گیا ہے۔اور باب ۵ میں ان جرائم کے مرتکب پر لعنت ڈالنے کو مکروہ کہا گیا ہے۔شارحین نے اس پر بہت طویل بخشیں کی ہیں اور ان تمام احادیث کو بیان کیا ہے جن میں لعنت کرنے یا نہ کرنے کے جواز اور عدم جواز کا ذکر ہے اس کی ذیل میں یہ بحث بھی کی گئی ہے کہ کسی معین شخص یا مجرم پر لعنت نہ کی جائے بلکہ جرم پر لعنت کی جائے تاکہ اس جرم سے لوگ باز رہیں۔یہ بھی کہا گیا ہے جس مجرم کو اس کے جرم کی سزا مل جائے اور اگر اس کا جرم حدود میں آتا ہے اور اُس پر حد لگا دی جائے تو یہ سزا یا حد چونکہ اس جرم کا کفارہ ہو جاتی ہے اس لیے اب اس پر لعنت ڈالنا مناسب نہیں۔علامہ محمد الدین ابو سعادات محمد ابن الاثیر لکھتے ہیں: لعنت کا فاعل اللہ ہو تو اس کا مطلب ہے دھتکارنا اور دور کرنا۔اور جب مخلوق لعنت کرے تو اس کا معنی ہے کسی کو برا کہنا اور بد دعا دینا۔(النهاية في غريب الحديث، زیر لفظ لعن) انبیاء جب کسی شخص پر لعنت ڈالتے ہیں تو وہ دراصل اعلان ہوتا ہے کہ یہ شخص راندہ درگاہ ہے اور خدا تعالیٰ کے قرب سے دور ہے یعنی اس کے گناہوں نے اس کے اور خدا کے درمیان دوری ڈال دی ہے۔پس انبیاء تو اللہ تعالیٰ سے یہ علم پا کر اس شخص کی حالت بیان کرتے ہیں لیکن عام آدمی کسی کے متعلق یہ حتمی علم نہیں رکھتا کہ وہ راندہ در گاہ ہے۔اس لیے اگر وہ کسی پر لعنت ڈالے اور وہ عند اللہ ملعون نہ ہو تو یہ لعنت اس لعنت ڈالنے والے پر پڑے گی۔اس لیے لوگوں کو اس سے منع کیا گیا ہے۔