صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 604 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 604

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۶۰۴ ۸۶ - کتاب الحدود ان کے لئے کافی ہوتا تھا۔اور تعصب اور خود بینی سے ان کو اس قدر دور کر دیا تھا کہ اپنی غلطیاں خود بخود ان کی آنکھوں کے سامنے آجاتی تھیں۔پس کسی لیکچرار کے لیکچر یا میجک لنٹن کی تصاویر کی ان کو ضرورت نہ تھی۔ان کے لئے صرف ایک اشارہ کافی تھا۔ایک لفظ بس تھا۔اور سب معاملہ آپ ہی آپ انکے لئے واضح ہو گیا۔ان کا اپنا نفس ان کے لئے لیکچرار تھا اور گوشہ ہائے دماغ میجک لنٹرن کے پر دے۔جن پر وہ عقل کی آنکھوں کے ساتھ خوب اچھی طرح ان بدمستیوں کے نظاروں کو دیکھ سکتے تھے جو شراب نوشی کے نتیجہ میں ظاہر ہوتے ہیں۔وہ جھوٹی تصویروں کے محتاج نہ تھے سچا نقشہ ان کی رہنمائی کے لئے کافی تھا۔اسلام کے اس دو حرفہ حکم کا جو اثر شراب نوشی پر ہوا اس کی بہترین مثال ذیل کا واقعہ ہے جو مسلم، مسند احمد بن حنبل اور ابن جریر کی روایات سے ماخوذ ہے۔حضرت انس جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خدام میں سے تھے اور مدینہ کے رہنے والے تھے۔بیان فرماتے ہیں کہ ایک دن ابو طلحہ کے مکان پر مجلس شراب لگی ہوئی تھی اور بہت سے دوست جمع تھے۔میں شراب پلا رہا تھا۔دور پر دور چل رہا تھا۔اور نشہ کی وجہ سے ان کے سر جھکنے لگے تھے کہ اتنے میں گلی میں کسی نے آواز دی کہ شراب حرام کی گئی ہے۔بعض لوگوں نے کہا کہ اٹھ کر دریافت کرو کہ یہ بات درست بھی ہے یا نہیں۔مگر بعض دوسروں نے کہا کہ نہیں پہلے شراب بہا دو پھر دیکھا جائے گا۔اور مجھے حکم دیا کہ میں شراب کا برتن توڑ کر شراب بہادوں چنانچہ میں نے ایک سو نشامار کر وہ گھڑ ا جس میں شراب تھی توڑ دیا اور اس کے بعد وہ لوگ کبھی شراب کے نزدیک نہیں گئے۔اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا اثر لوگوں کے دلوں پر کیا تھا۔مجلس شراب میں جبکہ لوگ نشہ میں ہیں۔ایک شخص کے خبر دینے پر بلا تحقیق شراب کا بہا دینا کوئی معمولی بات نہیں۔اس کی اہمیت کو وہ اقوام زیادہ سمجھ سکتی ہیں جو شراب کی عادی ہیں۔کیونکہ جب دور سے دیکھنے والے ان کی اس حالت کو عجیب حیرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں تو خود ان کے دل ضرور اس حالت کی خصوصیت کو اچھی طرح محسوس کرتے ہونگے۔اس واقعہ کو دوسرے