صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 600
صحیح البخاری جلد ۱۵ 1++ ۸۶ - کتاب الحدود صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِمْرَةِ أَبِي بَكْرٍ کے زمانہ میں اور حضرت ابو بکر کی خلافت میں اور فَصَدْرًا مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ فَنَقُومُ إِلَيْهِ حضرت عمرؓ کی خلافت کی ابتدا میں ہمارے پاس بِأَيْدِينَا وَنِعَالِنَا وَأَرْدِيَتِنَا حَتَّى كَانَ شرابی لایا جاتا تو ہم اس کی سزا دہی کے لیے اٹھ آخِرُ إِمْرَةِ عُمَرَ فَجَلَدَ أَرْبَعِينَ حَتَّى کھڑے ہوتے۔اپنے ہاتھوں اور اپنی جوتیوں اور إِذَا عَتَوْا وَفَسَقُوا جَلَدَ ثَمَانِينَ۔اپنی چادروں سے اس کو مارتے۔جب حضرت عمر کی خلافت کا آخری زمانہ ہوا تو انہوں نے چالیس کوڑے لگوائے۔جب لوگ سرکش ہو گئے اور احکام الہی سے نکل گئے تو وہ اسی کوڑے لگوانے لگے۔بَابه : مَا يُكْرَهُ مِنْ لَعْنِ شَارِبِ الْخَمْرِ وَإِنَّهُ لَيْسَ بِخَارِجِ مِنَ الْمِلَّةِ شراب پینے والے پر لعنت کرنا نا پسندیدہ امر ہے اور وہ دین سے باہر نہیں نکل جاتا ٦٧٨٠ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ٦٧٨٠ یحییٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث حَدَّثَنِي اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ نے مجھے بتایا۔انہوں نے کہا: خالد بن یزید نے يَزِيدَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ مجھے بتایا۔خالد نے سعید بن ابی ہلال سے، سعید زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُمَرَ بْنِ نے زید بن اسلم سے ، زید نے اپنے باپ سے ، ان الْخَطَّابِ أَنَّ رَجُلًا كَانَ عَلَى عَهْدِ کے باپ نے حضرت عمر بن خطاب سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ اسْمُهُ عَبْدَ اللهِ وَكَانَ يُلَقَّبُ حِمَارًا ہوا کرتا تھا۔اُس کا نام عبد اللہ تھا اور حمار کے لقب سے بلایا جاتا تھا اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وَكَانَ يُضْحِكُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ وسلم کو ہنسایا کرتا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى الله کو شراب کی وجہ سے کوڑے بھی لگائے تھے۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَلَدَهُ فِي الشَّرَابِ ایک دن اس کو لایا گیا۔آپ نے اس کو سزا دینے فَأْتِيَ بِهِ يَوْمًا فَأَمَرَ بِهِ فَجُلِدَ فَقَالَ کا حکم دیا تو اس کو کوڑے لگائے گئے۔لوگوں میں