صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 596 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 596

۵۹۶ صحیح البخاری جلد ۱۵ ۸۶ - کتاب الحدود وہ کیا کرتے تھے۔یہ پر دہ جو اُن کے نورِ ایمان کو ڈھانپ لیتا ہے یہ اچانک نہیں آ جاتا۔اس کا آغاز اُن شروعات سے ہوتا ہے جن سے اسلام نے روکا ہے۔جیسے بد نظری، بے پردگی، اور نامحرم عورتوں اور مردوں کا اختلاط۔یہ گناہ کی وہ شروعات ہیں جن سے دل پر دھبے پڑتے جاتے ہیں جو بالآخر سارے دل کو سیاہ کر دیتے ہیں اور انسان گناہ کی اس تاریکی میں ڈوبتا جاتا ہے جہاں ایمان کی کوئی کرن باقی نہیں رہ جاتی۔قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : تِلكَ حُدُودُ اللهِ فَلَا تَقْرَبُوهَا (البقرة : ۱۸۸) یہ اللہ کی (مقرر کردہ) حدیں ہیں۔اس لئے تم ان کے قریب (بھی) مت جاؤ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حدود کے قریب جانے اور اس کے نقصانات کی بہت سادہ اور عام فہم تفسیر فرمائی ہے۔فرمایا: اللہ کی حدود کے قریب جانے والا اس چرواہے کی طرح ہے جو کسی کے کھیت کے قریب اپنے جانور چراتا ہے۔جب جانور قریب لے آیا تو یہ امکان اور احتمال بہت زیادہ ہے کہ اس کا کوئی نہ کوئی جانور حد پار کر جائے گا۔اس لیے حدود سے دور رہنا ضروری ہے اسی کا نام تقویٰ ہے۔اور یہ تبھی ممکن ہے جب انسان اس ایمان پر قائم ہو کہ ایک بینا ذات ہر لمحہ اسے دیکھ رہی ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے پاکیزہ منظوم کلام میں ردیف کے طور پر اپنی نظم میں بار بار یہ مصرع دہرایا۔فرمایا ” سبحان من یرانی“۔ایک اور جگہ فرمایا: ڈرو یارو کہ وہ بینا خدا ہے اگر سوچو یہی دار الجزاء ہے ( در ثمین اردو) حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "ہم نے بہت سے ایسے انسان دیکھے ہیں کہ ایک ہی نگاہ میں ہلاک ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مومنوں سے کہہ دو۔نگاہیں نیچی رکھیں۔مولوی محمد اسمعیل صاحب شہید رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔اگر کسی حسین پر پہلی نظر پڑ جائے۔تو تم دوبارہ اس پر ہرگز نظر نہ ڈالو۔اس سے تمہارے قلب میں ایک نور پیدا ہو گا۔“ حقائق الفرقان، جلد ۳ صفحه ۲۱۳) بَاب ۲ : مَا جَاءَ فِي ضَرْبِ شَارِبِ الْخَمْرِ شراب پینے والے کو مارنے کے متعلق جو حدیثیں آئی ہیں ٦٧٧٣: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ :۶۷۷۳: حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ (دستوائی) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے قتادہ سے، (صحیح البخاری، کتاب الایمان، باب فَضْلِ مَنِ اسْتَبْرَ أَلِدِييه، روایت نمبر ۵۲)