صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 593
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۹۳ بسم الله الرحمن الرحيم ٨٦ - كِتَاب الْحُدُودِ سزاؤں کے متعلق احکام شریعت ۸۶ - کتاب الحدود امام بخاری نے کتاب الحدود میں ۱۰۳ مرفوع احادیث درج کی ہیں۔ان میں سے ۷۹ موصول ہیں اور باقی متابعات اور تعلیقات ہیں۔مرفوع احادیث کے علاوہ صحابہ اور تابعین کے ۲۰ آثار پیش کیے ہیں۔(فتح الباری، جزء ۱۲ صفحه ۲۳۰) ان احادیث کو ۴۶ ابواب میں تقسیم کیا ہے۔حدود حد کی جمع ہے اور اس کے لغوی معنی ہیں روکنا اور منع کرنا، دربان کو حداد کہا جاتا ہے کیونکہ وہ لوگوں کو داخل ہونے سے روکتا اور منع کرتا ہے۔اور شرعی معنی ایسی سزا کے ہیں جو خدا کی طرف سے مقرر کی گئی (عمدۃ القاری، جزء ۲۳ صفحه ۲۶۴) امام ابن حجر کہتے ہیں لغت میں حد اس چیز کو کہتے ہیں جو دو چیزوں کے درمیان حائل ہو اور ان کو ملنے سے روکتی ہو۔شرعی سزاؤں کو حدود اس لیے بھی کہتے ہیں کہ یہ سزائیں مجرم کو اس جرم کے اعادہ سے روکتی ہیں۔امام راغب نے کہا ہے کہ کبھی حدود کا اطلاق نفس کے گناہوں پر بھی کیا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہے۔تِلكَ حُدُودُ اللهِ فَلَا تَقْرَبُوهَا (البقرة: ۱۸۸) - نيز فرمايا: وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللهِ فَقَد ظَلَمَ نَفْسَهُ (الطلاق: ٢) گویا کہ یہ سزائیں حلال اور حرام میں فرق کرتی ہیں اسی وجہ سے ان کو حدود کہا گیا۔(فتح الباری، جزء ۱۲ صفحہ اے) انسان تین طریق سے گناہوں سے بچ سکتا ہے۔(۱) روحانی تربیت اور اصلاح نفس سے جو انبیاء کی صحبت تعلیم اور نمونہ سے حاصل ہوتی ہے۔یہ قدسی تاثیرات انسان کی معرفت کو اس قدر ترقی دیتی ہیں کہ گناہ اُسے ایک نجس اور ناپاک چیز دکھائی دیتا ہے جس سے وہ سخت نفرت و کراہت کرتا ہے۔نیز گناہ ایک ایساسم قاتل نظر آتا ہے جس سے ہلاکت اور تباہی یقینی معلوم ہوتی ہے اس لیے ان کا پاک نفس گناہ کے کبھی قریب نہیں جاتا۔(۲) وہ لوگ جن پر حیوانی جذبہ غالب ہوتا ہے انہیں سخت قسم کی سزا ہی ارتکاب معاصی سے روکتی ہے۔(۳) وہ طبقہ جنہیں اپنی جاہ وحشمت اور عزت و ناموس ہر چیز پر غالب اور اہم لگتی ہے وہ اپنی ذلت اور رسوائی برداشت نہیں کر سکتے ایسے لوگوں کی اصلاح کے لیے مؤخر الذکر دوسرا طریق شریعت نے اختیار کیا ہے۔یعنی حدود و تعزیرات۔بادی النظر میں یہ سزائیں ظالمانہ سمجھی جاتی ہیں اور مغربی دنیا بالخصوص اور دیگر دنیا میں نئی روشنی کے دلدادہ بالعموم ان سزاؤں کے خلاف سخت رد عمل دکھاتے ہیں اور اسلام کو متہم کرتے ہیں۔معلوم ہوتا ہے انہوں نے نہ ان سزاؤں کے فلسفہ کو سمجھا ہے اور نہ اصلاح معاشرہ کی باریکیوں تک ان کی نظر گئی ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ یہ سزائیں اپنی تمام تر سنگینی کے باوجود اپنے دامن میں رحمت اور ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : یہ اللہ کی حدود ہیں پس ان کے قریب بھی نہ جاؤ۔“ ترجمه حضرت خليفة المسيح الرابع : ” اور جو بھی اللہ کی حدود سے تجاوز کرے تو یقینا اس نے اپنی جان پر ظلم کیا۔“