صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 551
۵۵۱ ۸۵- کتاب الفرائض صحیح البخاری جلد ۱۵ مطابق اسی بیٹی کو یا ان بیٹیوں کو ملے گا۔یہ اصولِ رد فی الحقیقت رو کرنے کے لائق ہے کیونکہ اس کی کوئی اصل نہ قرآنِ کریم میں ہے نہ سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں نہ احادیث نبویہ میں اور نہ ہی خلفائے راشدین کے کسی قول و فعل سے ثابت ہے۔اس کے بر عکس نص صریح موجود ہے اور وہ نص صریح زیر باب حدیث رسول کے یہ مبارک الفاظ ہیں: أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا فَما بَلِي فَهُوَ لِأُولَى رَجُلٍ ذَكَرٍ حصہ داروں کو ان کا مقررہ حصہ دے دو، پھر جو بیچ رہے تو وہ سب سے زیادہ قریبی مر درشتہ دار کو دیا جائے۔پس ایسی صورت میں اس ارشادِ نبوی کے مطابق جو قریب ترین مرد رشتہ دار ہوگا، بقیہ نصف یا بقیہ ایک تہائی کا وہ وارث ہو گا۔یہ مرد اس مرنے والے کا بھائی یا چا ہو سکتا ہے۔اس سے نہ تو خدا تعالیٰ کی تقسیم میں کوئی کمی بیشی ہوگی نہ کوئی اصول ٹوٹے گا اور نہ کوئی حقیقی حق دار اپنے حق سے محروم ہو گا اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: ”ہماری جماعت کا یہ فرض ہونا چاہیئے کہ اگر کوئی حدیث معارض اور مخالف قرآن اور سنت نہ ہو تو خواہ کیسے ہی ادنی درجہ کی حدیث ہو اُس پر وہ عمل کریں اور انسان کی بنائی ہوئی فقہ پر اُس کو ترجیح دیں۔“ (ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۱۲) مکرم و محترم ملک سیف الرحمن صاحب سابق مفتی سلسلہ احمد یہ لکھتے ہیں: اگر کسی شخص کی بیٹیاں بھی موجود ہوں اور اصول اور دوسرے رشتہ دار بھی تو اگر ایک بیٹی ہو تو اسے نصف اور اگر زیادہ ہوں تو ان کو دو مثلث دے کر باقی ترکہ اصول یا دوسرے جدی رشتہ داروں کو دیا جائے گا۔داؤد ظاہری اور بعض دیگر علمائے اسلام کہتے ہیں کہ بیٹی کی موجودگی میں بہن وارث نہیں ہوتی۔قرآن کریم میں آتا ہے کہ اگر کوئی آدمی مر جائے اور اس کی کوئی اولاد نہ ہو تو پھر اس کی بہن کو نصف ملے گا۔یہودی شریعت میں اصول اور حواشی بیٹیوں کی موجودگی میں محروم ہوتے ہیں لیکن یہ زیادتی ہے اصول اور حواشی کو ایسی صورت میں بالکل محروم نہیں کرنا چاہیئے خصوصا جبکہ بیٹیاں دوسرے خاندانوں میں بیاہی جائیں گی اور اس طرح ساری جائیداد اصل کنبہ سے نکل کر دوسرے کنبہ یا قبیلہ میں چلی جائے گی۔پس وہی قانون قرین انصاف ہے جس کو شریعت اسلامیہ نے اختیار کیا ہے کیونکہ اس کے مطابق کچھ نہ کچھ حصہ اصول اور حواشیوں کے لیے رہنے دیا گیا ہے تاکہ متوفی کے رشتہ داروں کا کوئی حصہ محرومی کی تلخی سے دوچار نہ ہو۔بھلا یہ بھی کوئی انصاف ہے کہ بیٹیاں تو سب کچھ لے جائیں لیکن جنہوں نے مرنے والے بیٹے کی پرورش کی ہے یعنی ماں باپ وہ محرومی وراثت کا شکار ہو جائیں، اسی طرح بیٹیوں کی موجودگی میں مرنے