صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 536 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 536

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۳۶ ۸۵- کتاب الفرائض ان آیات کا تفسیری ترجمہ کرتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: تمہاری اولاد کے حصوں کے بارے میں خدا کی یہ وصیت ہے کہ لڑکے کو دو لڑکیوں کے برابر حصہ دیا کرو۔پھر اگر لڑکیاں دو یا دو سے بڑھ کر ہوں تو جو کچھ مرنے والے نے چھوڑا ہے اُس مال میں سے اُن کا حصہ تہائی ہے اور اگر لڑکی اکیلی ہو تو وہ مال متروکہ میں سے نصف کی مستحق ہے اور میت کے ماں باپ کو یعنی دونوں میں سے ہر ایک کو اس مال میں سے جو میت نے چھوڑا ہے چھٹا حصہ ہے اور یہ اس حالت میں کہ مرنے والا کچھ اولاد چھوڑ گیا ہو اور اگر مرنے والا لا ولد مر ا ہو اور اُس کے وارث صرف ماں باپ ہوں تو ماں کا حصہ صرف ایک تہائی ہے ، باقی سب باپ کا ، اگر ماں باپ کے علاوہ میت کے ایک سے زیادہ بھائی یا بہنیں ہوں تو اس صورت میں ماں کا چھٹا حصہ ہو گا لیکن یہ حصہ وصیت یا قرض کے ادا کرنے کے بعد دینا ہو گا۔تمہارے باپ ہوں یا بیٹے تمہیں معلوم نہیں کہ اُن میں سے باعتبار نفع رسانی کے کو نسا تم سے زیادہ قریب ہے پس جو حصے خدا نے قرار دے دیئے ہیں اُن پر کار بند ہو جاؤ کیونکہ وہ صرف خدا ہی ہے جس کا علم غلطی اور خطا سے پاک ہے اور جو حکمت سے کام کرتا اور ہر ایک مصلحت سے واقف ہے اور جو ترکہ تمہاری بیبیاں چھوڑ مریں، پس اگر وہ لا ولد مرجاویں تو ان کے ترکے میں سے تمہارا آدھا حصہ ہے اور اگر تمہاری بیبیوں کی اولاد ہے تو اس حالت میں اُن کے ترکہ میں سے تمہارا حصہ چوتھائی ہے مگر وصیت یا قرض کے ادا کرنے کے بعد اور اگر تم مر جاؤ اور تمہاری کچھ اولاد نہ ہو تو تمہاری بیبیوں کا حصہ تمہارے مال میں سے چوتھائی ہے اور اگر تمہاری اولاد ہو تو اُن کا حصہ تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ہے مگر اس امر کے بعد کہ پہلے اُن کی وصیت کی تعمیل کی جائے یا جو کچھ اُن کے سر پر قرضہ ہے وہ ادا کیا جائے۔اور اگر کسی مرد یا عورت کی میراث ہو اور وہ ایسا ہو کہ اُس کا نہ باپ ہو نہ بیٹا اور اُس کے بھائی یا بہن ہو تو ان بھائی یا بہنوں میں سے ہر ایک کے لئے چھٹا حصہ ہے اور اگر وہ ایک سے زیادہ ہوں تو اس صورت میں ایک تہائی میں سب شریک ہوں گے مگر ضروری ہو گا کہ پہلے وصیت کی تعمیل کی جائے یا اگر مرنے والے کے ذمہ قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے لیکن اس وصیت اور اس قرض میں ایک شرط ہے اور وہ