صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 458
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۵۸ ۸۳ - كتاب الأيمان والنذور حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ علی بن مسہر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ہشام بن عروہ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ سے ، ہشام نے اپنے باپ سے ، ان کے باپ نے ، عَنْهَا قَالَتْ هُزِمَ الْمُشْرِكُونَ يَوْمَ أُحُدٍ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔آپ هَزِيمَةٌ تُعْرَفُ فِيهِمْ فَصَرَخَ إِبْلِيسُ أَيْ فرماتی تھیں: اُحد کے دن مشرکوں کو ایسی شکست عِبَادَ اللهِ أُخْرَاكُمْ فَرَجَعَتْ أُولَاهُمْ ہوئی جس کے آثار ان میں نمایاں تھے ، تو اس وقت فَاجْتَلَدَتْ هِيَ وَأُخْرَاهُمْ فَنَظَرَ حُذَيْفَةُ ابلیس نے زور سے آواز دی: اللہ کے بندو! اپنے پچھلوں سے بچو۔یہ سنتے ہی جو اُن کے آگے تھے وہ بْنُ الْيَمَانِ فَإِذَا هُوَ بِأَبِيهِ فَقَالَ أَبِي أَبِي لوٹے اور یہ اور پچھلے دونوں آپس میں ایک دوسرے قَالَتْ فَوَاللَّهِ مَا انْحَجَزُوا حَتَّى قَتَلُوهُ پر تلواریں چلانے لگے۔حضرت حذیفہ بن یمان نے فَقَالَ حُذَيْفَةُ غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ قَالَ عُرْوَةُ غور سے دیکھا تو کیا دیکھتے ہیں کہ ان کا باپ لوگوں فَوَاللَّهِ مَا زَالَتْ فِي حُذَيْفَةَ مِنْهَا بَقِيَّةٌ کے نرغے میں ہے۔انہوں نے پکارا میرا باپ ہے حَتَّى لَقِيَ الله۔میرا باپ ہے۔حضرت عائشہ فرماتی تھیں: اللہ کی قسم وہ باز نہ آئے۔یہاں تک کہ اس کو مار ہی ڈالا۔حذیفہ نے کہا: اللہ تمہاری پردہ پوشی کرتے ہوئے تم سے درگزر کرے۔عروہ نے کہا: اللہ کی قسم ! حضرت حذیفہ کے دل میں (زندگی بھر ) اس واقعہ کا رنج ہی رہا حتی کہ وہ اللہ سے جاملے۔أطرافه ۳۲۹۰، ۳۸۲، ٤٠٦٥ ، ٦٨٨٣ ، ٦٨٩٠- ٦٦٦٩: حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ مُوسَى :۶۶۶۹: یوسف بن موسیٰ نے مجھ سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَ حَدَّثَنِي عَوْفٌ ابو اسامہ نے ہمیں بتایا، کہا: عوف نے مجھ سے بیان کیا۔عوف نے خلاس ( بن عمر و) اور محمد بن سیرین) رَضِيَ عَنْ خِلَاسٍ وَمُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ سے ، ان دونوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى سے روایت کی۔حضرت ابوہریرہ نے کہا: نبی صلی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَكَلَ نَاسِيًا وَهُوَ الله علیہ وسلم نے فرمایا: جو بھول کر کھالے جبکہ وہ صَائِمٌ فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللهُ روزه دار ہو تو وہ اپناروزہ پورا کرے کیونکہ اللہ نے