صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 421
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۴۱ الله ۸۳- كتاب الأيمان والنذور نے سورہ مائدہ میں ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ فَكَفَّارَتُهُ اطْعَامُ عَشَرَةِ مَسْكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَنْ لَّمْ يَجِدُ فَصِيَامُ ثَلَثَةِ أَيَّامٍ ذَلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ (المائدة: ۹۰) یعنی قسم توڑنے کا کفارہ دس مساکین کو متوسط درجہ کا کھانا کھلانا ہے۔ ایسا کھانا جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو، یا ان کے لئے لباس مہیا کرنا ہے یا ایک غلام کو آزاد کرنا ہے لیکن جسے اس بات کی توفیق نہ ہو اس پر تین دن کے روزے واجب ہیں۔ یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جبکہ تم قسم کھانے کے بعد انہیں توڑ دو وَاللهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ میں غفور کے لفظ سے بتادی بتا دیا کہ اگر تم ایسی قسموں سے اجتناب کرو گے اور توبہ کرو گے تو ہم تمہیں بخش دیں گے اور حلیم کہہ کر اس طرف توجہ دلائی کہ ہم نے لغو قسموں پر اس لئے گرفت نہیں کی کہ اگر ہم ان قسموں پر گرفت کرنا شروع کر دیں تو تمہارا بچنا مشکل ہو جائے۔“ ( تفسير كبير ، تفسير سورة البقرة، آيت لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ ، جلد ۲ صفحه ۷ ۵۰ تا ۵۰۹) بَاب : قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَايْمُ اللَّهِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا: اللہ کی قسم ٦٦٢٧ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ ۶۶۲۷ : قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نے اسماعیل بن جعفر سے، اسماعیل نے عبداللہ بن دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا دِینار سے، عبد اللہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ علیہ وسلم نے ایک دستہ فوج بھیجا اور اُن پر حضرت وَسَلَّمَ بَعْثًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أَسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ اُسامہ بن زید کو امیر مقرر فرمایا تو بعض لوگوں نے فَطَعَنَ بَعْضُ النَّاسِ فِي إِمْرَتِهِ فَقَامَ ان کی امارت پر اعتراض کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے، فرمایا: اگر تم اس کی امارت إِنْ كُنْتُمْ تَطْعَنُونَ فِي إِمْرَتِهِ فَقَدْ كُنْتُمْ پر اعتراض کرتے ہو تو تم اس سے پہلے اس کے تَطْعَنُونَ فِي إِمْرَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلُ وَايْمُ اللهِ باپ کی امارت پر بھی اعتراض کیا کرتے تھے اور