صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 396
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۸۲ - کتاب القدر اس سے کیا نقصان۔بلکہ ضرور تھا کہ بشریت کے تحقق کے لئے کبھی کبھی ایسا بھی ہو تا تالوگ شرک کی بلا میں مبتلا نہ ہو جائیں۔“ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۱۳ تا ۱۱۶) جتنا کوئی استغفار کرتا ہے اتنا ہی معصوم ہوتا ہے۔اصل معنے یہ ہیں کہ خدا نے اسے بچایا۔معصوم کے معنے مستغفر کے ہیں۔“ (ملفوظات، جلد دوم صفحہ ۵۶۰) بَاب : وَحَرِّمُ عَلَى قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَهَا أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ (الأنبياء : ٩٦) اور ہر ایک بستی جسے ہم نے ہلاک کیا ہے اس کے لیے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ اس کے بسنے والے لوٹ کر اس دنیا میں نہیں آئیں گے أَنَّهُ لَنْ يُؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ إِلَّا مَنْ قَدْ (اور یہ جو فرمایا) کہ تیری قوم سے ہرگز کوئی ایمان امن (هود: ۳۷) وَلا يَلِدُوا إِلا فَاجِرًا نہیں لائے گامگر وہی جو ایمان لاچکے۔( نیز فرمایا : ) كَفَّارًا (نوح: ۲۸) وَقَالَ مَنْصُورُ بْنُ اور وہ نہیں جنیں گے مگر بد کار سے بڑھ کر کفر کرنے والے کو۔اور منصور بن نعمان نے عکرمہ سے ، عکرمہ نے حضرت ابن عباس سے نقل کیا اور حزم حبشی زبان میں وجب کے معنوں میں ہے یعنی ضروری۔النُّعْمَانِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَحِرْمَ بِالْحَبَشِيَّةِ وَجَبَ۔٦٦١٢ : حَدَّثَنِي مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ :۶۶۱۲ محمود بن غیلان نے مجھ سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ عبد الرزاق نے ہمیں بتایا۔معمر نے ہمیں خبر دی۔ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ معمر نے (عبد اللہ ) بن طاؤس سے، ابن طاؤس قَالَ مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَشْبَهَ بِاللَّمَمِ مِمَّا نے اپنے باپ سے ، اُن کے باپ نے حضرت ابن قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عباس سے روایت کی۔انہوں نے کہا: حضرت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللهَ كَتَبَ عَلَى ابْنِ ابوہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو روایت آدَمَ حَظَّهُ مِنَ الزِّنَا أَدْرَكَ ذَلِكَ لَا کرتے ہوئے کہا، اس سے بڑھ کر لَمَمْ (گناہ) کے مَحَالَةَ فَزِنَا الْعَيْنِ النَّظَرُ وَزِنَا اللَّسَانِ مشابہ میں نے اور کوئی بات نہیں دیکھی کہ اللہ نے