صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 389
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۳۸۹ ۸۲ - کتاب القدر قَدَّرْتُهُ لَهُ أَسْتَخْرِجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ کام نہیں آتی جو میں نے اس کے لئے مقدر نہیں کیا ہوتا۔( یا نذر ابن آدم کا کوئی ایسا مقصد بر نہیں لاقی جو میں نے مقدر نہیں کیا ہوتا) بلکہ نذر اُسے تقدیر کے ہی حوالے کرتی ہے۔اور میں نے اس طرفه : ٦٦٩٤ - کے لئے اس نذر کو مقدر کیا ہوتا ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے بخیل سے کچھ نکالوں۔مريح : إِلْقَاءُ الْعَبْدِ التَّذْدُ إِلَى الْقَدَرِ : در بندے کو تقدیر کے ہی حوالے کرتی ہے۔زیر باب احادیث میں نذر کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کس قدر واضح ہے کہ نذر نہیں ماننی چاہیے اور آپ نے اس مناہی کی وجہ بھی بیان فرمائی إِنَّهُ لَا يَرُدُّ شَيْئًا کہ نذرکسی چیز کو پلٹ نہیں سکتی۔تو ایسا کام جس کا بے فائدہ اور لاحاصل ہونا بتا دیا گیا ہو پھر وہ کرنا اسے حماقت کا نام دیا جائے یا انسان کے بخل سے تعبیر کیا جائے کہ انسان اپنی تنگ نظری میں اس قدر گر جاتا ہے کہ اپنے خالق و مالک سے شرط لگاتا ہے کہ وہ اس وقت تک اپنا مال خرچ نہیں کرے گا جب تک اللہ تعالیٰ اس کا کام نہ کرے گویا اپنا معاوضہ اپنے خالق سے وصول کرنا چاہتا ہے اور وہ بھی پیشگی جیسے کوئی مریض ڈاکٹر سے کہے تم میرا اعلاج کرو اور کرتے جاؤ اگر میں شفا پا گیا تو تمہارے علاج معالجہ کا وہ معاوضہ جو میں نے دل میں سوچا ہوا ہے وہ تمہیں دوں گا۔اگر مجھے شفانہ ہوئی تو تمہاری کسی محنت مہارت یا علاج معالجہ پر جس قدر اخراجات ہوئے ہوں گے وہ تم جانو اور تمہارے اخراجات، میں ایک نکا نہیں دوں گا اس کے مقابل صدقہ کرنا کس قدر با برکت اور سعادت مندانہ اقدام ہے کہ تم اپنے خالق اور مالک اور قادر خدا پر توکل کر کے اپنی حیثیت اور توفیق کے مطابق جو بن پڑتا ہے دعا اور صدقہ کرو وہ خدا تمہاری بڑی سے بڑی بلا کو ٹال دے گا اور تمہارے لیے فضل اور رحمت کے سامان کرے گا۔فرماتا ہے: وَ انْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللهِ وَلَا تُلْقُوا بِايْدِيكُمْ إِلَى النَّهْلَكَةِ وَاحْسِنُوا ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ ) (البقرة: ١٩٢) اور اللہ کے راستے میں ( مال و جان ) خرچ کرو اور اپنے ہی ہاتھوں (اپنے آپ کو) ہلاکت میں مت ڈالو۔اور احسان سے کام لو۔اللہ احسان کرنے والوں سے یقینا محبت کرتا ہے۔فَاتَّقُوا اللهَ مَا اسْتَطَعْتُهُ وَ اسْمَعُوا وَ أَطِيعُوا وَ أَنْفِقُوا خَيْرًا لَّا نَفْسِكُمْ وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَبِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ) ( التغابن: ۱۷) پس جتنا ہو سکے اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو اور اپنے مال اس کی راہ میں خرچ کرتے رہو۔یہ تمہاری جانوں کے لیے بہتر ہو گا اور جو لوگ اپنے دل کے بخل سے بچائے جاتے ہیں وہ کامیاب ہوتے ہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: " صدقہ میں وہ تمام اخراجات شامل ہیں جو رڈ بلا کی غرض سے اور مصیبت کے