صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 371
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۳۷۱ ۸۲ - كتاب القدر وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ لِي النَّبِيُّ قرار دیا۔ اور حضرت ابوہریرہ نے کہا: نبی صلی اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَفَّ الْقَلَمُ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جو تجھے پیش آنے والا بِمَا أَنْتَ لَاقٍ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَهَا ہے اس کے متعلق قلم لکھ کر خشک بھی ہو گئی۔ اور سبقُونَ (المؤمنون : (٦٢) سَبَقَتْ لَهُمُ حضرت ابن عباس نے کہا: لَهَا سَیقُونَ کے معنی 1 السَّعَادَةُ۔ ہیں سعادت ان کے لئے پہلے سے ہو چکی۔ ٦٥٩٦ : حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ۲۵۹۶: آدم نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے حَدَّثَنَا يَزِيدُ الرِّشْكُ قَالَ سَمِعْتُ ہمیں بتایا۔ یزید رشک نے ہم سے بیان کیا۔ یزید مُطَرفَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشَّخِيرِ نے کہا: میں نے مطرف بن عبد اللہ بن شیخیر سے يُحَدِّثُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ سنا۔ وہ حضرت عمران بن حصین سے بیان کرتے قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُعْرَفُ أَهْلُ تھے کہ وہ کہتے تھے: ایک شخص نے کہا: یارسول اللہ ! الْجَنَّةِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ قَالَ نَعَمْ قَالَ کیا جنتیوں کو جہنمیوں سے پہچان لیا جائے گا؟ فَلِمَ يَعْمَلُ الْعَامِلُونَ قَالَ كُلِّ يَعْمَلُ آپؐ نے فرمایا: ہاں۔ اس نے کہا: پھر عمل کرنے لِمَا خُلِقَ لَهُ أَوْ لِمَا يُيَسَّرُ لَهُ۔ والے کیوں عمل کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ہر طرفه : ٧٥٥١۔ ایک اس کے موافق کام کر رہا ہے جس کے لئے وہ پیدا کیا گیا، یا (فرمایا: جس کے لئے اسے توفیق دی جاتی ہے۔ تشریح : جَفَ الْقَلَمُ عَلَى عِلْمِ اللہ : جو کچھ اللہ کے علم میں ہے اس پر قلم پھر کر خشک بھی ہو گئی۔ جَفَافُ الْقَلَمِ عِبَارَةٌ عَنْ عَدْمٍ تَغْيِيرِ حُكْمِهِ لِأَنَّ الْكَاتِب لما أَنْ جَفَّ قَلَمُهُ عَنِ الْمِدَادِ لَا تَبْقَى لَهُ الْكِتَابَةُ (عمدۃ القاری، جزء ۲۳ صفحه ۱۴۷) قلم کے خشک ہونے سے مراد یہ ہے کہ اس کے حکم میں کوئی تبدیلی ۲۳ کے نہ ہو گی۔ کیونکہ کاتب کے قلم کی جب سیاہی خشک ہو جائے تو کتابت نہیں ہوتی۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں تو سب کچھ ہے مگر اس کا علم کسی کو پابند نہیں کرتا نہ کسی کے عمل کی وجہ بنتا ہے مثلاً ایک شخص ہمارے سامنے ، یہ کہے کہ یہ کہے کہ وہ فلاں شخص کو قتل کرنے لگا ہے تو ہمارے علم نے اس کو اس فعل پر مجبور نہیں کیا بلکہ اس کے فعل سے ہمیں یہ علم ہوا۔ اللہ تعالیٰ کا علم ایک کیمرے کی طرح ہر چیز کو دیکھ رہا رہا ہے۔