صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 370 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 370

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۳۷۰ ۸۲ - کتاب القدر ريح۔فَيُكتبُ كَذَلِكَ في بَطْنِ أُمِهِ: تو اس طرح اس کی ماں کے پیٹ میں لکھ دیا جاتا ہے۔اس روایت میں تین کا ذکر کیا گیا ہے چوتھی کا نہیں، دیگر احادیث میں چوتھا یہ ہے کہ وہ مذکر ہو گا یا مونث ہو گا۔(۶۵۹۵) زیر باب روایات میں بچے کی پیدائش کے ساتھ جن امور کو فرشتے کے ذریعہ باذن الہی اس میں ڈالے جانے کا ذکر ہے۔اس سے مراد گٹھلی کی طرح ان تمام اُمور کا اس بچے میں مقرر کرنا ہے، جیسے قرآنِ کریم میں فرمایا: فَالْهَمَهَا فُجُورَهَا وَ تَقُولهَا (الشمس: ۹) کہ اُس (اللہ ) نے نفس پر اس کی بدکاری کی راہوں کو بھی) اور اس کے تقویٰ (کے راستوں) کو بھی اچھی طرح کھول دیا ہے۔تو جملہ امور اس بچے میں فیڈ کیے گئے جو اپنے وقت کے ساتھ ظاہر ہوں گے مگر انسان کسی ایک امر مثلاً بد بختی کو اختیار کرنے پر مجبور نہیں بلکہ با اختیار ہے چاہے تو اپنے اندر کی سعادت کو پروان چڑھائے اور چاہے اپنی بد بختی کو بام عروج تک پہنچائے وہ اس میں با اختیار ہے اور ج رتبھی وہ جزا یا سزا کا مستحق ٹھہرتا ہے۔اگر وہ کسی طاقت سے محروم ہے تو اُسے نہ جزا ملے گی نہ سزا جیسے فاتر العقل اور معذور افراد۔فرماتا ہے : لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (البقرة: ۲۸۷) اللہ کسی نفس پر سوائے اس (ذمہ واری) کے جو اس کی طاقت میں ہو کوئی ذمہ واری نہیں ڈالتا۔ان احادیث میں کسی قسم کے جبر کا بیان نہیں بلکہ ایک مدبر ہستی کی صفت خالقیت کا ایک عمدہ نمونہ دکھایا گیا ہے اور بتایا گیا ہے یہ تخلیقات از خود بغیر کسی صانع کے معرض وجود میں نہیں آئیں بلکہ یہ تخلیقات اپنے خالق کا پتہ دیتی ہیں اور ان مصنوعات سے صانع کا وجو د ثابت ہوتا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: تقدیر یعنی دُنیا کے اندر تمام اشیاء کا ایک اندازہ اور قانون کے ساتھ چلنا اور ٹھہرنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس کا کوئی مقدر یعنی اندازہ باندھنے والا ضرور ہے۔گھڑی کو اگر کسی نے بالا رادہ نہیں بنایا، تو وہ کیوں اس قدر ایک با قاعدہ نظام کے ساتھ اپنی حرکت کو قائم رکھ کر ہمارے واسطے فائدہ مند ہوتی ہے۔ایسا ہی آسمان کی گھڑی کہ اُس کی ترتیب اور باقاعدہ اور باضابطہ انتظام یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ بالا رادہ خاص مقصد اور مطلب اور فائدہ کے واسطے بنائی گئی ہے۔اس طرح انسان مصنوع سے صانع کو اور تقدیر سے مقدر کو پہچان سکتا ہے۔“ ( ملفوظات، جلد اول صفحه ۲۰۹،۲۰۸) باب ۲: جَفَّ الْقَلَمُ عَلَى عِلْمِ اللهِ جو کچھ اللہ کے علم میں ہے اس پر قلم پھر کر خشک بھی ہو گئی وَقَوْلُهُ وَاَضَلَّهُ اللَّهُ عَلى عِلْمٍ (الجائیه: ٢٤) اور اس کا یہ فرمانا: اللہ نے اس کو علم کی بنا پر گمراہ