صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page xv
صحیح البخاری جلد ۱۵ ix فهرست باب ۱۲: لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَى الله۔جو اللہ دے اس کو کوئی روکنے والا نہیں۔۴۰۴ باب ۱۳: مَنْ تَعَوَّذَ بِاللَّهِ مِنْ دَرَكِ الشَّقَاءِ وَسُوءِ الْقَضَاءِ جس نے بدبختی اور بد قسمتی سے اللہ کی پناہ لی ۴۰۷ باب ١٤: يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وہ آدمی اور اس کے دل کے درمیان روک ۴۰۸ ہو جاتا ہے۔باب ١٥: قُلْ لَنْ يُصِيبَنَا إِلَّا مَا كَتَبَ اللهُ لَنَا تو (ان سے) کہہ دے ہم کو تو وہی پہنچتا ہے جو ۴۰۹ اللہ نے ہمارے لئے مقرر کر چھوڑا ہے۔باب ١٦: وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِي لَوْ لَا أَن هَدينَا اللهُ ہم تو ایسے نہیں تھے کہ راہ راست پر آتے اگر ۴۱۱ اللہ نے ہماری راہنمائی نہ کی ہوتی ۸۳ - كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ بَاب ۱: قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللهُ بِاللغو في الله تعالى کا یہ فرمانا: تمہاری قسموں میں جو لغو ہو ۴۱۶ ايمانكم اُس پر اللہ تم سے مواخذہ نہیں کرتا ۴۲۱ ۴۲۲ بَاب ٢ : قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَايْمُ الله نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا: اللہ کی بَاب : كَيْفَ كَانَتْ يَمِينُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کیا ہوا کرتی تھی۔بَاب : : لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ۔بَابِ : لَا يُحْلَفُ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى وَلَا بِالطَّوَاغِيتِ۔۔۔لات و عزیٰ کی قسم نہ کھائی جائے اور نہ ہی ۴۳۸ اپنے باپ دادوں کی قسم نہ کھایا کرو۔طاغوتوں کی۔بَاب : مَنْ حَلَفَ عَلَى الشَّيْءِ وَإِنْ لَّمْ يُحَلَّف جس نے کسی بات پر قسم کھائی گو اُسے قسم نہ ۴۳۹ دی گئی ہو بَابِ : مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ سِوَى مِلَّةِ الْإِسْلَامِ جس نے اسلام کے مذہب کے سوا کسی اور ۴۴۰ مذہب کی قسم کھائی۔بَاب لَا يَقُولُ مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ یوں نہ کہے جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں ۴۴۰ بَابِ : قَوْلُ اللهِ تَعَالَى وَاقْسَمُوا بِاللهِ جَهْدَ اللہ تعالیٰ کا فرمانا: انہوں نے اللہ کی بڑی پکی ۴۴۲ ايمانهم قسمیں کھائیں۔بَابِ ١٠: إِذَا قَالَ أَشْهَدُ بِاللَّهِ أَوْ شَهِدْتُ بِاللهِ۔اگر کوئی یوں کہے: أَشْهَدُ بِاللهِ یا شَهِدتُ بِالله۔۔۔۴۴۵