صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 730
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۹ - كتاب الاستئذان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ عَمْرُو قَالَ ابْنُ سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا کہ عمرو بن دینار) عُمَرَ وَاللَّهِ مَا وَضَعْتُ لَبِنَةً عَلَى لَبِنَةٍ نے کہا: حضرت ابن عمر کہتے تھے: اللہ کی قسم جب وَلَا غَرَسْتُ نَحْلَةً مُنْذُ قُبِضَ النَّبِيُّ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی میں نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سُفْيَانُ اینٹ پر اینٹ نہیں رکھی اور نہ ہی کھجور کا کوئی درخت فَذَكَرْتُهُ لِبَعْضِ أَهْلِهِ قَالَ وَاللهِ لَقَدْ لگایا۔سفیان نے کہا: میں نے ان کے گھر والوں میں قَالَ سُفْيَانُ قُلْتُ فَلَعَلَّهُ قَالَ قَبْلَ سے کسی سے اس کا ذکر کیا تو اس نے کہا: اللہ کی قسم انہوں نے گھر بنایا تھا۔سفیان کہتے تھے۔میں نے کہا: شاید انہوں نے گھر بنوانے سے پہلے کہا ہو۔بَنَى أَنْ يَبْنِي تشریح: مَا جَاءَ في البناء: عمارت بنانے کے متعلق جو حدیثیں آئی ہیں۔عنوان باب میں امام بخاری نے لفظ ”ما“ سے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ یہ عام قانون بیان نہیں کیا گیا بلکہ مخصوص امر کی طرف اشارہ ہے۔زیر باب حدیث میں ان عربوں کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی بیان کی گئی ہے جو اونٹوں کے چرواہے تھے کہ ایک زمانہ آئے گا یہ تفاخر اور مقابلہ کے لئے اونچی اونچی عمارتیں بنائیں گے۔آج عرب ریاستیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیشگوئی کے من و عن پورا کرنے میں لا تعداد اونچی عمارتیں جن میں سر فہرست برج الخلیفہ ہے منہ بولتا ثبوت ہیں۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایات سے امام بخاری نے اس روح اور فلسفہ کی طرف اشارہ کیا ہے جو صحابہ کے اندر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ نے پیدا کیا تھا جو اینٹ روڑے پر خرچ کرنے کو معیوب سمجھتے تھے۔کاش آج اُمت محمد یہ بالخصوص اور اقوام عالم بالعموم اس روح کو سمجھیں کہ انسان کی اصل ضرورت تو ایسی چھت یا گھر میسر ہوتا ہے جو اُسے موسمی تکالیف سے محفوظ رکھے اور اس کے لئے سکون و امن کا باعث ہو اور مقابلہ بازی میں صرف اینٹ روڑے پر خرچ کرنے کی بجائے دیگر انسانی ضرورتوں کو ملحوظ رکھا جائے۔آج دنیا میں لاکھوں انسان بے گھر ہیں، بے یار و مددگار ہیں۔اُن کی ضروریات ان میل بامیل اُونچی عمارتوں سے بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔کاش بڑے بڑے ایوانوں میں بیٹھنے والے بے گھر (Home Less) اور بے سہارا لوگوں کے درد کو سمجھیں۔✰✰✰