صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 397
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۳۹۷ ۷۸ - كتاب الأدب سے صلہ رحمی کے یہ نمونے قائم ہو جائیں تو پھر کیا کبھی اس گھر میں تو تکار ہو سکتی ہے؟ کوئی لڑائی جھگڑا ہو سکتا ہے؟ کبھی نہیں۔ کیونکہ اکثر جھگڑے ہی اس بات سے ہوتے ہیں کہ ذراسی بات ہوئی یا ماں باپ کی طرف سے کوئی رنجش پیدا ہوئی یا کسی کی ماں نے یا کسی کے باپ نے کوئی بات کہہ دی، اگر مذاق میں ہی کہہ دی اور کسی کو بری لگی تو فوراً ناراض ہو گیا کہ میں تمہاری ماں سے بات نہیں کروں گا، میں تمہارے باپ سے بات نہیں کروں گا، میں تمہارے بھائی سے بات نہیں کروں گا۔ پھر الزام تراشیاں کہ وہ یہ ہیں اور وہ ہیں۔ تو یہ زود رنجیاں چھوٹی چھوٹی باتوں پر ، یہی پھر بڑے جھگڑوں کی بنیاد بنتی ہیں۔“ (خطبات مسرور، خطبہ جمعہ فرموده ۲، جولائی ۲۰۰۴، جلد ۲ صفحہ ۴۵۱) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رشتہ دار تو الگ رہے آپ اپنے رشتہ داروں کے رشتہ داروں اور اُن کے دوستوں تک کا بھی بہت خیال رکھتے تھے۔ جب کبھی آپ قربانی کرتے تو آپ حضرت خدیجہ کی سہیلیوں کی طرف ضرور گوشت بھجواتے اور ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ خدیجہ کی سہیلیوں کو نہ بھولنا اُن کی طرف گوشت ضرور بھجوانا ایک دفعہ حضرت خدیجہ کی وفات کے کئی سال بعد آپ مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت خدیجہ کی بہن بالہ آپ سے ملنے آئیں اور دروازہ پر کھڑے ہو کر کہا ” کیا میں اندر آ سکتی ہوں؟“ ہالہ کی آواز میں اُس وقت اپنی مرحومہ بہن حضرت خدیجہ سے بے انتہاء مشابہت پیدا ہو گئی۔ اس آواز کے کان میں پڑتے ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پر کپکپی آگئی۔ پھر آپ سنبھل گئے اور فرمایا: آہ میرے خدا! یہ تو خدیجہ کی بہن ہالہ نہیں ہے۔ در حقیقت سچی محبت کا اصول ہی یہی ہے کہ ہی یہی ہے کہ جس سے پیار ہو اور جس کا ادب ہو اُس کے قریبیوں اور اس کے ساتھ تعلق رکھنے والوں سے بھی محبت اور پیار پیدا ہو جاتا ہے۔ انس بن مالک کہتے ہیں کہ میں ایک دفعہ سفر پر تھا۔ جریر بن عبد اللہ ایک در اللہ ایک دوسرے ا (مسلم، كتاب فضائل الصحابة ، باب فضائل خديجة أم المؤمنين رضي الله عنها ) (بخاری، کتاب مناقب الأنصار ، باب تزويج النبي ﷺ خديجة وفضلها رضی الله عنها، روایت نمبر ۳۸۲۱)