صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 339
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۳۳۹ ۷۷- كتاب اللباس حَدَّثَنِي يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو اور جس أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ میں تصویریں ہوں۔ اور لیث بن سعد) نے کہا: سَمِعْتُ أَبَا طَلْحَةَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ مجھے یونس (بن یزید ) نے ابن شہاب سے روایت صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ کرتے ہوئے بتایا۔ انہوں نے کہا: مجھے عبید اللہ نے بتایا کہ انہوں نے حضرت ابن عباس سے سنا۔ (وہ کہتے تھے: میں نے حضرت ابو طلحہ سے سنا۔ (حضرت ابو رت ابو طلحہ نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ أطرافه : ۳۲٢٥، ۳۲۲۶، ۳۳۲۲، ٤٠٠٢، ٥٩٥٨۔ تشریح : التَّصَاوِيرُ: مورتیاں بنانا یار کنا)۔ باب ۸۸ سے باب ۹۷ تک تصاویر بنانے اور گھروں میں رکھنے اور تصاویر والے پر دے وغیرہ کی مناہی کے متعلق احادیث بیان کی گئی ہیں، بلا شبہ وہ تمام تصاویر جو شرک کا ذریعہ اور محرک بن رہی ہوں منع ہیں۔ شرک کے مٹانے اور اس کی بیخ کنی کرنے کے لیے اس پر جتنا بھی انذار کیا جاتا وہ وقت کی ضرورت اور بہت بڑی اہمیت رکھتا تھا۔ آج بھی عریانی اور فحاشی کو پھیلانے والی ہر قسم کی تصاویر یا ویڈیوز وغیرہ سے اپنے ماحول کو پاک کرنے کیلئے متذکرہ بالا احادیث ایک بہت بڑا انذار ہیں۔ تاہم موجودہ زمانے میں تصاویر بہت مفید بھی ثابت ہو رہی ہیں علوم و فنون کی ترقی اور اخلاقی و روحانی اقدار کو بڑھانے اور ایمان و معرفت میں ترقی کا باعث بننے والی تصاویر ہیں جو نہ صرف جائز بلکہ بہت ضروری ہیں۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایسا کپڑا جس پر تصویریں ہوں آپ پسند نہیں فرماتے تھے۔ نہ انسانی لباس میں اور نہ پر دوں وغیرہ کی صورت میں خصوصاً بڑی تصویریں جو کہ شرک کے آثار میں سے ہیں اُن کی آپ کبھی اجازت نہیں دیتے تھے۔ ایک دفعہ آپ کے گھر میں ایسا کپڑا لٹکا ہوا تھا آپ نے دیکھا تو اُسے اُتروا دیا۔ ہاں چھوٹی چھوٹی تصویر جس کپڑے پر بنی ہوئی ہوں اُس کپڑے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کیونکہ ان سے شرک کے خیالات کی طرف اشارہ نہیں ہوتا۔ آپ ریشمی کپڑا کبھی نہیں پہنتے تھے نہ دوسرے مردوں کو ریشمی کپڑا پہننے کی اجازت دیتے تھے۔“ دیتے (دیباچه تفسیر القرآن، انوار العلوم جلد ۲۰ صفحہ ۳۸۱،۳۸۰)