صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 297
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۲۹۷ ۷۷- کتاب اللباس رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ (بن جبیر ) سے سنا۔ سعید نے حضرت ابن عباس عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى يَوْمَ الْعِيدِ رَكْعَتَيْنِ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهُمَا وَلَا بَعْدَهُمَا ثُمَّ أَتَى نے عید کے دن دو رکعتیں پڑھیں۔ ان سے پہلے النِّسَاءَ وَمَعَهُ بِلَالٌ فَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ اور نہ ان کے بعد آپ نے کوئی نماز پڑھی۔ پھر فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي قُرْطَهَا۔ آپ عورتوں کے پاس آئے اور آپ کے ساتھ بلال تھے تو آپ نے ان کو صدقہ کا حکم دیا تو کوئی عورت اپنی بالی ڈالنے لگی۔ أطرافه : ۹۸، ٨٦٣، ٩٦٢، ۹٦٤، ۹۷۵، ۹۷۷، ۹۷۹، ۹۸۹، ۱۴۳۱، ١٤٤٩، ٤٨٩٥، ٥٨٨٠،٥٢٤٩، ٥٨٨١، ٧٣٢٥ باب ٦٠ : السِّحَابُ لِلصَّبْيَانِ بچوں کو قرنفل وغیرہ کے ہار پہنانا ٥٨٨٤ : حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ۵۸۸۴: اسحاق بن ابراہیم ابراہیم حنظلی نے مج ظلی نے مجھ سے بیان الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ کیا کہ يحي بن آدم نے ہمیں خبر دی کہ ورقاء بن عمر حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ نے ہمیں بتایا۔ ورقاء نے عبید اللہ بن ابی یزید سے، عبید اللہ نے نافع بن جبیر سے، نافع نے بْنِ أَبِي يَزِيدَ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں مدینہ کے بازاروں میں سے مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ایک بازار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے في سُوقٍ مِنْ أَسْوَاقِ الْمَدِينَةِ ساتھ تھا۔ آپ وہاں سے واپس لوٹے اور میں بھی فَانْصَرَفَ فَانْصَرَفْتُ فَقَالَ أَيْنَ لَكَعُ لوٹا آپ نے تین بار پکارا چھوٹا بچہ کہاں ہے؟ ثَلَاثًا ادْعُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيّ فَقَامَ حسن بن علی کو بلاؤ۔ حسن بن علیؓ اٹھ کر چلتے الْحَسَنُ بْنُ عَلِيّ يَمْشِي وَفِي عُنُقِهِ ہوئے آیا اور اس کے گلے میں لونگ وغیرہ کا بار السِّحَابُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ اس طرح پھیلایا