صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 295
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۲۹۵ ۷۷- کتاب اللباس بِالصَّدَقَةِ فَجَعَلْنَ يُلْقِينَ الْفَتَخَ بڑھایا پھر آپ عورتوں کے پاس آئے اور ان کو وَالْخَوَاتِيمَ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ۔ صدقہ کا حکم دیا۔ اور وہ حضرت بلال کے کپڑے میں چھلے اور انگوٹھیاں ڈالنے لگیں۔ أطرافه : ۹۸ ، ٨٦٣، ٩٦٢، ٩٦٤، ۹۷۵، ۹۷۷، ۹۷۹، ۹۸۹، ۱۴۳۱، ١٤٤٩، ٤٨٩٥، ٥٨٨٣، ٧٣٢٥ ،۵۸۸۱ ،٥٢٤٩ بَاب ٥٧ : الْقَلَائِدُ وَالسِّحَابُ لِلنِّسَاءِ يَعْنِي قِلَادَةً مِنْ طِيبٍ وَسُكٍ عورتوں کے لئے زیور اور قرنفل وغیرہ کے ہار یعنی خوشبو دار یا سک کے ہار ٥٨٨١ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ :۵۸۸۱ : محمد بن عرعرہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَدِي بْنِ ثَابِتٍ عَنْ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عدی بن ثابت سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ سے، عدی نے سعید بن جبیر سے، سعید نے اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عِيدٍ فَصَلَّی انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن رَكْعَتَيْنِ لَمْ يُصَلِّ قَبْلُ وَلَا بَعْدُ ثُمَّ باہر گئے اور دو رکعتیں نماز پڑھائی۔ اس سے پہلے أَتَى النِّسَاءَ فَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ اور اس کے بعد کوئی نماز نہیں پڑھائی۔ پھر آپ فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تَصَدَّقُ بِخُرْصِهَا عورتوں کے پاس آئے اور صدقہ کا حکم دیا اور وَسِحَابِهَا ۔ عورتیں اپنی بالیاں اور اپنے قرنفل مشک وغیرہ کے ہار صدقہ میں دینے لگیں۔ أطرافه : ۹۸ ، ٨٦٣، ٩٦٢، ٩٦٤، ۹۷۵، ۹۷۷، ۹۷۹، ۹۸۹، ۱۹۳۱، ١٤٤٩، ٤٨٩٥، ٥٢٤٩، ٨٨٠، ٥٨٨٣، ٧٣٢٥ بَاب ٥٨ : اسْتِعَارَةُ الْقَلَائِدِ بار مستعار لینا ٥٨٨٢ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ۵۸۸۲: اسحاق بن ابراہیم نے ہمیں بتایا کہ عبدہ اے کشمیہنی کی روایت میں یہاں منک کا لفظ ہے۔ ( فتح الباری جزء ۱۰ صفحہ ۴۰۷) جس کے معنی مشک کے ہیں۔