صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 1
صحیح البخاری جلد ۱۴ بسم الله الرحمن الرحيم ٧٥ - كِتَابُ الْمَرْضَى ۷۵ - كتاب المرضى کتاب المرضی ۲۲ ابواب اور ۳۸ روایات پر مشتمل ہے۔اس کتاب میں امام بخاری نے بیمار کی، اس کے اسباب اور نتائج سے متعلق احادیث اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ و صحابہ کے واقعات بیان کیے ہیں۔علامہ بدر الدین عینی لکھتے ہیں : مَرْضَى مَریض کی جمع ہے اور مرض کے معنی ہیں جسم کا اپنی طبعی حالت سے نکلنا اور اس کو ایسی حالت سے تعبیر کیا جاتا ہے جس میں مریض کے افعال سلامت روی سے صادر نہ ہوں۔(عمدۃ القاری جزء ۲۱ صفحہ ۲۰۷) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: بیماری اس حالت کا نام ہے جب حالت بدن مجری طبیعت پر نہ رہے اور صحت وہ حالت ہے کہ امور طبیعہ اپنی اصلی حالت پر قائم ہوں۔اور جیسے کسی ہاتھ پاؤں یا کسی عضو کے اپنے مقام خاص سے ذرا اِدھر اُدھر کھسک جانے سے درد شروع ہو جاتا ہے اور وہ عضو نکما ہو جاتا ہے اور اگر چندے اسی حالت پر رہے، تو پھر نہ خود بالکل بیکار ہو جاتا ہے بلکہ دوسرے اعضاء پر بھی اپنا برا اثر ڈالنے لگتا ہے۔بعینہ یہی حالت روحانی ہے کہ جب انسان خدا تعالیٰ کے سامنے سے جو اس کی زندگی کا اصل موجب مایہ حیات ہے ، ہٹ جاتا ہے اور فطرتی دین کو چھوڑ بیٹھتا ہے، تو عذاب شروع ہو جاتا ہے اور اگر قلب مردہ نہ ہو گیا ہو اور اس میں احساس کا مادہ باقی ہو تو وہ اس عذاب کو خوب محسوس کرتا ہے اور اگر اس بگڑی ہوئی حالت کی اصلاح نہ کی جاوے تو اندیشہ ہو تا ہے کہ پھر ساری روحانی قوتیں رفتہ رفتہ نکمی اور بیکار ہو جائیں اور ایک شدید عذاب شروع ہو جاوے۔پس اب کیسی صفائی کے ساتھ یہ امر سمجھ میں آجاتا ہے کہ کوئی عذاب باہر سے نہیں آتا بلکہ خود انسان کے اندر ہی سے نکلتا ہے۔ہم کو اس سے انکار نہیں کہ عذاب خدا کا فعل ہے۔بے شک اس کا فعل ہے مگر اسی طرح جیسے کوئی زہر کھائے تو خدا اُسے ہلاک کر دے۔پس خدا کا فعل انسان کے اپنے فعل کے بعد ہوتا ہے اسی کی طرف اللہ جلشانہ اشارہ فرماتا ہے : نَارُ اللهِ المُوقَدَةُ الَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى الْأَنْدَةِ الهمزة: ۷،۸) یعنی خدا کا عذاب وہ آگ ہے جس کو خدا بھر کا تا ہے اور اس کا شعلہ انسان کے دل سے ہی اٹھتا ہے۔اس کا مطلب صاف لفظوں میں یہی ہے کہ عذاب کا اصل پیج اپنے وجود ہی کی ناپاکی ہے۔جو عذاب کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔“ (ملفوظات جلد ۲ صفحه (۲۰)