صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 193 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 193

صحیح البخاری جلد ۱۴ رَضِيَ ١٩٣ ۷۶ - كتاب الطب -24 اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ حضرت انس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت وَيُعْجِبُنِي الْفَالُ قَالُوا وَمَا الْفَأْلُ قَالَ کی۔آپ نے فرمایا: چھونے سے کوئی بیماری نہیں ہوتی اور نہ بدشگونی کوئی حقیقت رکھتی ہے اور مجھے كَلِمَةٌ طَيِّبَةٌ۔طرفه: ٥٧٥٦۔فال اچھا لگتا ہے۔لوگوں نے پوچھا: فال کیا ہوتا ہے؟ فرمایا: اچھی بات۔تشریح: لا عدوی: کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی۔امام بخاری نے عنوانِ باب کے تحت وہ روایات بھی دی ہیں جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا ذکر ہے کہ بیمار اونٹ کو صحت مند کے پاس نہ لاؤ۔اسی طرح دوسری جگہ لا عدوی کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ مجذوم سے اس طرح بھا گو جس طرح شیر سے بھاگتے ہو۔(روایت نمبر ۵۷۰۷) ان دونوں بظاہر متضاد احادیث کو لا کر امام بخاری نے ان کی تطبیق کی طرف متوجہ کیا ہے۔ان احادیث میں دکھائی دینے والا تضاد و تعارض محض قلت تدبر کا نتیجہ ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام میں قطعا کوئی تعارض و تناقض نہیں ہے دراصل ایک ہی امر کا بیان ہے اور وہ یہ کہ اذنِ الہی اور قانونِ قدرت میں پائے جانے والے اسباب کے بغیر کوئی بیماری آگے نہیں بڑھ سکتی۔مثلاً جو وائرس یا بیکٹیریا ایک سے دوسرے کو لگتے ہیں وہ از خود ایک جگہ سے دوسری جگہ نہیں جاسکتے جب تک قانونِ قدرت ان کا ذریعہ نہ بنے۔مثلاً بعض وائرس یا جراثیم ہوا کے ذریعہ دوسری جگہ پہنچتے ہیں بعض مکھی یا مچھر کے ذریعہ اور بعض ایک انسان کے سانس یا چھینک یا تھوک یا استعمال شدہ اشیاء سے دوسرے تک پہنچتے ہیں۔اگر یہ اسباب مہیا نہ ہوں تو کوئی وائرس یا بیماری آگے نہیں جاسکتی۔یہی سوال آنحضرت نے اس اعرابی کے سامنے رکھا کہ اگر چھونے سے ہی ایک سے دوسرے کو بیماری لگتی ہے تو پہلے اونٹ کو کیسے لگی۔اس کا مطلب ہے جس قانونِ قدرت نے اُس تک اس بیماری کو پہنچایا وہی آگے بھی چلا سکتا ہے اگر وہ اسباب اور ذرائع میسر نہ ہوں تو کوئی بیماری از خود آگے نہیں جاسکتی۔بیماری کی اصل وجوہات کے متعلق ہو میو پیتھک نظریہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس بیان کی تائید کرتا ہے کہ صرف چھونے سے کوئی بیماری نہیں ہوتی۔اس نظریہ کے مطابق بیماری کی اصل وجوہات جسم کے اندر موجود ہوتی ہیں۔ہو میو پیتھک طریق علاج کے بانی ہانیمن (Hahnemann) اس سلسلہ میں کہتے ہیں کہ چوٹ وغیرہ کے علاوہ جو بیرونی ضرب سے پیدا ہو، کوئی بیماری بھی بغیرہ اندرونی مرض کے پیدا نہیں ہو سکتی یہاں تک کہ ہونٹ پر کوئی پھنسی بھی کسی اندرونی خرابی کے بغیر نہیں نکل سکتی۔189 Organon of Medicine Pg) یہ مراد نہیں ہے کہ بیماری کے خارجی اسباب نہیں ہیں مثلا بعض لوگ ساحلی علاقوں میں جا کر بیمار ہو جاتے ہیں۔اب بظاہر یہ بیرونی وجہ ہے لیکن یہ بیرونی وجہ پہلے سے موجود اندرونی مرض میں اضافے کا باعث بن جاتی ہے۔