صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 440 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 440

- ۷۲ - كتاب الذبائح والصيد صحیح البخاری جلد ۱۳ أَبُو إِدْرِيسَ عَائِدُ اللهِ قَالَ سَمِعْتُ انہوں نے کہا: مجھے ابوادر میں عائد اللہ نے بتایا، أَبَا ثَعْلَبَةَ الْحُشَنِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ کہتے تھے: میں نے حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ يَقُوْلُ أَتَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى الله سے سنا، وہ کہتے تھے: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللهِ إِنَّا کے پاس آیا۔میں نے کہا: یا رسول اللہ ! ہم ایسی بِأَرْضِ قَوْمٍ أَهْلِ الْكِتَابِ نَأْكُلُ فِي قوم کے ملک میں ہیں جو اہل کتاب ہیں۔ہم ان آنِيَتِهِمْ وَأَرْضِ صَيْدٍ أَصِيْدُ بِقَوْسِی کے برتنوں میں کھاتے ہیں اور ہم ایسی سرزمین وَأَصِيْدُ بِكَلْبِي الْمُعَلَّم وَالَّذِيْ لَيْسَ میں ہیں جہاں شکار ہوتا ہے میں اپنی کمان سے مُعَلَّمًا فَأَخْبِرْنِي مَا الَّذِي يَحِلُّ لَنَا شکار کرتا ہوں اور اپنے سدھائے ہوئے کتے سے مِنْ ذَلِكَ فَقَالَ أَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكَ نیز اس سے جو سکھایا ہوا نہیں شکار کرتا ہوں۔بِأَرْضِ قَوْمٍ أَهْلِ الْكِتَابِ تَأْكُلُ فِي آپ مجھے بتائیں کہ ان میں سے کون سا ہمارے آنِيَتِهِمْ فَإِنْ وَجَدْتُمْ غَيْرَ آنِيَتِهِمْ لئے جائز ہے؟ آپ نے فرمایا: جو تم نے یہ ذکر کیا فَلَا تَأْكُلُوْا فِيْهَا وَإِنْ لَّمْ تَجِدُوا ہے کہ تم ایسی قوم کے ملک میں ہو جو اہل کتاب فَاغْسِلُوْهَا ثُمَّ كُلُوْا فِيْهَا وَأَمَّا مَا ہیں تم اُن کے برتنوں میں کھاتے ہو۔اگر تم ان کے برتنوں کے سوا اور برتن پاؤ تو ان میں نہ کھاؤ اور اگر ذَكَرْتَ أَنَّكَ بِأَرْضِ صَيْدِ فَمَا صِدْتَ بِقَوْسِكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ ثُمَّ كُلْ نہ پاؤ تو انہی کو دھو لو اور اس کے بعد ان میں کھاؤ۔وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ الْمُعَلَّم فَاذْكُرْ اور جو تم نے یہ ذکر کیا کہ تم ایسی سرزمین میں ہو اسْمَ اللهِ ثُمَّ كُلِّ وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ جہاں شکار ہوتا ہے تو جو تم اپنی کمان سے شکار کر و تو اللہ کا نام لے لو اور پھر کھاؤ۔اور جو تم اپنے الَّذِي لَيْسَ مُعَلَّمًا فَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فكل۔أطرافه: ٥٤٧٨، ٥٤٩٦- سدھائے ہوئے کتے کے ذریعہ سے شکار کرو، اللہ کا نام لے لو اور پھر اسے کھاؤ، اور جو تم اپنے اس کتے کے ذریعے سے شکار کرو جو سکھایا ہوا نہیں پھر تم اس کو ذبح کر لو تو پھر اس کو بھی کھاؤ۔