صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 14
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۱۴ ۶۷ - كتاب النكاح ٥٠٧٢ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ۵۰۷۲: محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا۔انہوں عَنْ سُفْيَانَ عَنْ حُمَيْدِ الطُّوِيلِ قَالَ نے سفیان ثوری) سے ، سفیان نے حمید طویل سے سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ قَدِمَ روایت کی۔انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَآخَى النَّبِيُّ بن مالک سے سنا۔وہ کہتے تھے : حضرت عبد الرحمن بن عوف (مدینہ میں) آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ نے اُن کو اور حضرت سعد بن ربیع انصاری کو آپس سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ وَعِنْدَ میں بھائی بھائی بنا دیا۔انصاری (بھائی) کے پاس دو الْأَنْصَارِيِّ امْرَأَتَانِ فَعَرَضَ عَلَيْهِ أَنْ عورتیں تھیں تو انہوں نے حضرت عبد الرحمن کے يُنَاصِفَهُ أَهْلَهُ وَمَالَهُ فَقَالَ بَارَكَ اللهُ سامنے یہ پیش کیا کہ وہ اپنی بیویاں اور اپنی جائیداد لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ دُلُّونِي عَلَى سے آدھوں آدھ بانٹ دیتے ہیں۔(حضرت السُّوقِ فَأَتَى السُّوقَ فَرَبحَ شَيْئًا مِنْ عبد الرحمن نے سن کر) کہا: اللہ تمہیں تمہاری بیویوں أَقِطٍ وَشَيْئًا مِنْ سَمْنٍ فَرَآهُ النَّبِيُّ اور تمہاری جائیداد میں برکت دے۔تم مجھے منڈی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَيَّامٍ کا پتہ دو۔وہ منڈی میں آئے اور کچھ پنیر اور کچھ گھی وَعَلَيْهِ وَضَرٌ مِنْ صُفْرَةٍ فَقَالَ مَهْيَمْ نفع میں لائے۔پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبد الرحمن کو کئی دنوں کے بعد دیکھا۔اُن پر زرد يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ؟ فَقَالَ تَزَوَّجْتُ أَنْصَارِيَّةً قَالَ فَمَا سُقْتَ؟ قَالَ وَزْنَ رنگ کے دھبے تھے۔آپ نے پوچھا: عبد الرحمن یہ کیسے ؟ انہوں نے عرض کیا: میں نے ایک انصاری نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ۔قَالَ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ۔عورت سے شادی کر لی ہے۔آپ نے فرمایا: مہر کیا دیا ہے ؟ انہوں نے کہا: گٹھلی کے برابر سونا۔آپ نے فرمایا: ولیمہ کرو گو ایک ہی بکری سے۔أطرافه: ۲۰٤٩، ۲۲۹۳، ۳۷۸۱ ، ۳۹۳۷، ۵۱۴۸، ۵۱۰۳ ، ۵۱۰۰، ٦٠٨٢،٥١٦٧، ٦٣٨٦- بَاب : مَا يُكْرَهُ مِنَ التَّبَتْلِ وَالْخِصَاءِ مجر درہنا اور خصی کرنا جو نا پسندیدہ ہے ٥٠٧٣: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ۵۰۷۳: احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ