صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 206
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۲۰۶ ۶۸ - كتاب الطلاق مَغَافِيْرَ أَكَلْتَ مَغَافِيْرَ ۔ فَدَخَلَ عَلَى ہنگ کھائی ہے۔ چنانچہ آپ اُن میں سے ایک إِحْدَاهُمَا فَقَالَتْ لَهُ ذَلِكَ ۔ فَقَالَ لَا کے پاس آئے اور اُس نے آپ سے یہ کہا۔ آپؐ بَأْسَ شَرِبْتُ عَسَلًا عِنْدَ زَيْنَبَ ابْنَةِ نے فرمایا: نہیں بلکہ میں نے زینب بنت جحش کے جَحْشِ وَلَنْ أَعُودَ لَهُ۔ فَنَزَلَتْ يانها پاس شہد یا ہے اور اب بھی اسے دوبارہ نہیں پیوں گا۔ تب یہ آیت نازل ہوئی۔ یعنی اے نبی! تو النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللهُ لَكَ إِلَی کیوں حرام کر رہا ہے جسے اللہ نے تیرے لئے إن تَتُوبَا إِلَى الله (التحریم : ٢ - ٥ حلال قرار دیا ہے تو اپنی ہوا تو اپنی بیویوں کی رضا چاہتا ہے لِعَائِشَةَ وَحَفْصَةَ وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلى اور اللہ بہت بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا (التحریم: ٤) ہے۔ اللہ نے تم پر اپنی قسمیں کھولنا لازم کر دیا ہے اور اللہ تمہارا مولا ہے اور وہ صاحب علم (اور) لِقَوْلِهِ بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا۔ صاحب حکمت ہے۔ اور جب نبی نے اپنی بیویوں میں سے کسی سے بصیغہ راز ایک بات کہی پھر جب اس نے وہ بات آگے) بتا دی اور اللہ نے اُس (یعنی نبی) پر وہ (معاملہ ) ظاہر کر دیا تو اُس نے کچھ حصہ سے تو اُس (بیوی) کو آگاہ کر دیا اور کچھ سے چشم پوشی کی پس جب اُس ۔ جب اُس نے اُس (بیوی) کو اس کی خبر دی تو اُس نے پوچھا کہ آپ کو کس نے بتایا ہے تو اس نے کہا کہ علیم و خبیر نے مجھے بتایا ہے۔ اگر تم دونوں اللہ کی طرف توبہ کرتے ہوئے جھکو تو یہی زیبا ہے۔) یہ خطاب حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ کو ہے۔ یعنی جب نبی نے اپنی بیویوں میں سے کسی کو بطور راز کے بتایا، اس سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کہنا تھا: نہیں بلکہ میں نے شہر پیا ہے۔ أطرافه : ٤٩١۱۲ ، ٥٢١٦، ٥٢٦٨ ، ٥٤٣١ ، ٥٥٩٩، ٥٦١٤ ، ٥٦٨٢ ، ٦٦٩١، ٦٩٧٢-