صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 600
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۶۰۰ ۶۶ - کتاب فضائل القرآن ٥٠٢٩ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ۵۰۲۹: عمرو بن عون نے ہم سے بیان کیا کہ حماد حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابو حازم سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ أَتَتِ النَّبِيَّ ہے ، ابو حازم نے سہل بن سعد سے روایت کی۔ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ انہوں نے کہا: ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم إِنَّهَا قَدْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلَّهِ وَلِرَسُوْلِهِ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ اس نے اپنے آپ کو صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا لِي الله اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے فِي النِّسَاءِ مِنْ حَاجَةٍ فَقَالَ رَجُلٌ وقف کر دیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: مجھے اب زَوَجْنِيْهَا قَالَ أَعْطِهَا ثَوْبًا قَالَ لَا عورتوں کی حاجت نہیں۔ ایک شخص بولا: مجھ سے أَجِدُ قَالَ أَعْطِهَا وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ اس کی شادی کر دیں۔ آپؐ نے فرمایا: اس کو کپڑا حَدِيدٍ فَاعْتَلَ لَهُ فَقَالَ مَا مَعَكَ مِنَ دو۔ اس نے کہا: میرے پاس تو نہیں۔ آپ نے الْقُرْآنِ قَالَ كَذَا وَكَذَا قَالَ فَقَدْ فرمایا: اس کو دو، گولوہے کی انگوٹھی ہی۔ پھر اس زَوَّجْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ۔ نے آپ سے (یہی) عذر کیا۔ آپؐ نے فرمایا: تمہیں کچھ قرآن یاد ہے؟ اس نے کہا: فلاں فلاں (سورۃ مجھے یاد ہے ) آپ نے فرمایا: میں نے تمہارا اس سے نکاح انہی (سورتوں) کے عوض میں کر دیا جو تمہیں قرآن سے یاد ہیں۔ أطرافه: ۲۳۱۰، ۵۰۳۰، ۵۰۸۷، ۵۱۲۱، ۵۱۲۶، ۵۱۳۲، ٥١۳۵، ٥١٤١، ٥١٤٩، ۵۱۵۰، ٠٥۸۷۱ ٧٤١٧۔ تشریح : خَيْرُكُم خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ : تم میں سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور اس کو سکھائے۔ قرآن کریم کو سیکھنے اور سکھانے کے حوالے سے حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے ایک بہت خوبصورت اور مجرب طریق بیان فرمایا ہے۔ آپ فرماتے ہیں: وو ہم نے ایک راہ کا تجربہ کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ انسانی دل میں سچی تڑپ اور پیاس علوم قرآنی کے حصول کے واسطے پیدا کر کے تقویٰ تام سے دعائیں کرے اور اس طرح سے قرآن شریف شروع کرے۔