صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 598
حیح البخاری جلد ۱۲ ۵۹۸ ۶۶ - کتاب فضائل القرآن شریح : اِغْتِبَاطُ صَاحِبِ الْقُرْآنِ: عالم قرآن پر رشک کرنا۔کسی کی نعمت کے زوال کی تمنا کرنا حسد کہلاتا ہے اور یہ منع ہے اور کبھی حسد کا اطلاق غبط (رشک) پر بھی ہوتا ہے۔اس سے مراد یہ ہے کہ دوسروں کو جو نعمت ملی ہے اپنے لئے اس کی خواہش کرنا۔اس حدیث میں حسد کا یہی معنی مراد ہے اور یہ ایک اچھی تمنا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: انسانی اخلاق خدا کے اخلاق کا پر توہ ہیں۔جب خدا نے روحوں کو پیدا کیا تو جس طرح باپ کے اخلاق کا بیٹوں میں اثر آ جاتا ہے ایسا ہی بندوں میں اپنے خدا کا اثر آگیا۔۔۔خدا نے جو انسان کو اپنی طرف بلایا ہے اس لئے اس نے پہلے سے پرستش اور عشق کے مناسب حال قوتیں اس میں رکھ دی ہیں۔پس وہ قوتیں جو خدا کی طرف سے ہیں خدا کی آواز کو سُن لیتی ہیں۔اسی طرح جب خدا نے چاہا کہ انسان خدا کی معرفت میں ترقی کرے تو اس نے پہلے سے ہی انسانی روح میں معرفت کے حواس پیدا کر رکھے ہیں اور اگر وہ پیدا نہ کرتا تو پھر کیونکر انسان اس کی معرفت حاصل کر سکتا تھا۔انسان کی رُوح میں جو کچھ ہے دراصل خدا سے ہے اور وہ خدا کی صفات ہیں جو انسانی آئینہ میں ظاہر ہیں ان میں سے کوئی صفت بُری نہیں بلکہ ان کی بد استعمالی اور ان میں افراط تفریط کرنا برا ہے شاید کوئی جلدی سے یہ اعتراض کرے کہ انسان میں حسد ہے، بغض ہے اور دوسری صفات زمیمہ ہوتے ہیں پھر وہ کیونکر خدا کی طرف سے ہو سکتے ہیں پس واضح رہے کہ جیسا کہ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں دراصل تمام انسانی اخلاق الہی اخلاق کا ظل ہیں کیونکہ انسانی روح خدا سے ہے لیکن کمی یا زیادتی یا بد استعمالی کی وجہ سے وہ صفات ناقص انسانوں میں مکر وہ صورت میں دکھائی دیتے ہیں۔مثلاً حسد انسان میں ایک بہت بُر اخلق ہے جو چاہتا ہے کہ ایک شخص سے ایک نعمت زائل ہو کر اس کو مل جائے لیکن اصل کیفیت حسد کی صرف اس قدر ہے کہ انسان اپنے کسی کمال کے حصول میں یہ روا نہیں رکھتا کہ اس کمال میں اُس کا کوئی شریک بھی ہو پس در حقیقت یہ صفت خدا تعالیٰ کی ہے جو اپنے تئیں ہمیشہ وحدہ لا شریک دیکھنا چاہتا ہے۔پس ایک قسم کی بد استعمالی سے یہ عمدہ صفت قابل نفرت ہو گئی ہے ورنہ اس طرح پر یہ صفت مذموم نہیں کہ کمال میں سب سے زیادہ سبقت چاہے اور روحانیت میں تفرد اور یکتائی کے درجہ پر اپنے تئیں دیکھنا چاہے۔(نیم دعوت، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۳۸۹، ۳۹۰)