صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 578 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 578

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۷۸ -۶۶- کتاب فضائل القرآن جَسَدِهِ يَفْعَلُ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ۔حصے پر پھیرتے۔تین دفعہ ایسا ہی کرتے۔اطرافه : ٥٧٤٨ ٦٣١٩ یح : فَضْلُ الْمُعَوَّذَاتِ : معوذات کی فضیلت۔معوذات سے مراد سورۃ الاخلاص، سورۃ الفلق اور سورۃ الناس ہیں۔حضرت عائشہؓ کی حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر رات کو لیٹتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو ملا کر ان میں پھونکتے اور یہ تینوں سورتیں پڑھتے۔ان تینوں سورتوں کا اکٹھا پڑھنا اور ان کے ذریعہ دعا مانگنا بتاتا ہے کہ ان سورتوں کا آپس میں گہر ا اشتراک ہے اور ان میں ایک طبعی ترتیب ہے۔نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس سنت سے اپنی امت کو دعا کرنے کا یہ طریق سکھا کر یہ پیغام دیا کہ یہ رات جو اپنی لپیٹ میں قسم قسم کے فتنے لیے ہوئے آتی ہے، یہ فتنے صرف اس رات تک محدود نہیں بلکہ تاریکی کے یہ فتنے قیامت تک مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتے رہیں گے۔اور سب سے بڑا فتنہ جس سے ہر نبی نے اپنی قوم کو ڈرایا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سب سے بڑا فتنہ قرار دیا وہ دجالی فتنہ ہے اور آخری زمانہ میں برپا ہونے والے تمام فتنوں کا وہ منبع ہو گا۔پس تمہاری کوئی رات ایسی نہ گزرے جب تم ان فتنوں سے بچنے کے لیے دعائیں نہ کرو۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: "سورۃ اخلاص اور سورۃ فلق اور سورۃ ناس میں صرف یہ فرق ہے کہ سورۃ اخلاص میں تو اس قوم کے عقائد بتلائے گئے۔پھر اس کے بعد سورۃ فلق میں یہ اشارہ کیا گیا کہ یہ قوم اسلام کے لئے خطر ناک ہے اور اس کے ذریعہ سے آخری زمانہ میں سخت تاریکی پھیلے گی اور اس زمانہ میں اسلام کو ایک بڑے شہر کا سامنا ہو گا۔اور یہ لوگ معضلات اور دقائق دین میں گرہ در گرہ دے کر مکار عورتوں کی طرح لوگوں کو دھوکا دیں گے اور یہ تمام کاروبار محض حسد کے باعث ہو گا جیسا کہ قابیل کا کاروبار حسد کے باعث تھا۔فرق صرف یہ ہے کہ قابیل نے اپنے بھائی کا خون زمین پر گرایا مگر یہ لوگ بباعث جوش حسد سچائی کا خون کریں گے۔غرض سورۃ قُلْ هُوَ الله احد میں ان لوگوں کے عقائد کا بیان ہے اور سورۃ فلق میں ان لوگوں کے ان اعمال کی تشریح ہے جو قوت اور طاقت کے وقت ان سے ظاہر ہوں گے۔چنانچہ دونوں سورتوں کو بالمقابل رکھنے سے صاف سمجھ آتا ہے کہ پہلی سورۃ یعنی سورۃ اخلاص میں قوم نصاری کے اعتقادی حالات کا بیان ہے اور دوسری سورۃ میں عملی حالات کا ذکر ہے۔اور سخت تاریکی سے آخری زمانہ کی طرف اشارہ ہے جبکہ یہ لوگ اس رُوح کے مظہر اتم ہوں گے جو خدا کی طرف سے مضل ہے۔“ (تحفہ گولڑویہ ، روحانی خزائن جلد۱۷، حاشیه صفحه ۲۷۰)