صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 556
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۵۶ - کتاب فضائل القرآن تاریخ سے ثابت ہے کہ صحابہ میں سے بہت سے قرآن کریم کے حافظ تھے۔جیسا کہ سوانح میں واقعہ بئر معونہ کے ماتحت ذکر آچکا ہے کہ سنہ ۴ھ ہجری میں بعض قبائل کی درخواست پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ۷۰ آدمی، لوگوں کو دین سکھانے کے لئے بھیجے تھے جو سب کے سب قرآن کریم کے حافظ تھے۔جیسا کہ بتایا جا چکا ہے یہ لوگ اپنی اپنی مجالس میں رات دن قرآن سناتے تھے۔چنانچہ حافظ ابو یعلی لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور اُس نے کہا: یارسول اللہ ! ابو موسی اپنے گھر میں بیٹھے ہیں اور بہت سے لوگ اِن کے ارد گرد جمع ہیں اور وہ اُن کو قرآن یاد کرارہے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم مجھے وہاں کسی ایسی جگہ پر بٹھا سکتے ہو جہاں سے وہ لوگ مجھے نہ دیکھ سکیں۔اُس نے کہا: ہاں۔اس پر وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے گیا اور گھر کے کسی ایسے کو نہ میں جا کر بٹھا دیا جہاں لوگوں کو آپ نظر نہیں آتے تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو موسیٰ کی قراءت کو سنا تو وہ بالکل درست تھی اور بہت اچھی طرح وہ قرآن پڑھ رہے تھے اس پر آپ نے فرمایا: اِنَّهُ لَيَقْرَأُ عَلَى مِنْمَارِ مِنْ مَزَامِيرِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وہ تو داوُد علیہ السلام کے خوبصورت طریق پر قرآن پڑھ رہا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علاوہ ان چار حافظوں کے جن کو آپ نے اُستاذ الاساتذہ مقرر کیا تھا باقی لوگوں کی قراءت کا بھی امتحان لیتے رہتے تھے اور ان کی نگرانی رکھتے تھے تاکہ وہ کوئی غلطی نہ کر بیٹھیں۔صرف ایک ہی جگہ پر نہیں صحابہ کی مختلف مجالس میں قرآن پڑھایا جاتا تھا۔حضرت امام احمد اپنی کتاب میں جابر بن عبد اللہ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے تو لوگ بیٹھے ہوئے قرآن شریف پڑھ رہے تھے آپ نے فرمایا: ہاں قرآن پڑھو اور خوب پڑھو اور اللہ کی رضا حاصل کرو۔پیشتر اس کے کہ وہ قوم آئے جو قرآن کے لفظوں کو تو صحیح پڑھے گی لیکن مزدوری اور دنیوی فائدہ کے لئے پڑھے گی۔اپنے نفس کی اصلاح کے لئے نہیں۔جابر بن عبد اللہ کہتے ہیں کہ ہماری اس مجلس میں نہ صرف مہاجر اور انصار تھے بلکہ عجمی اور اعرابی بھی اس میں شامل تھے یعنی جنگلوں کے رہنے والے اور غیر عربی لوگ بھی۔