صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 537 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 537

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۳۷ ۶۶ -٢ - کتاب فضائل القرآن سکتے ہیں اور اس میں بتایا گیا ہے کہ ہر ایسے تغیر میں قرآن کریم قائم رہے گا اور کوئی یہ نہیں کہہ سکے گا کہ ہمارے زمانہ کی ضروریات کو قرآن پورا نہیں کرتا۔باقی الہامی کتابیں تو ایسی ہیں کہ جن کے متعلق ہم کہہ سکتے ہیں کہ جب زمانہ بدلا اور دنیا میں تغیر آیا توان کتب میں جو کلام تھا اس کے وہ معنے نہ نکلے جو اس زمانہ کے ذہنوں کے مطابق ہوتے۔اس لئے وہ قابل عمل نہ رہیں مگر قرآن کریم کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جوں جوں دنیا میں تغیر آتے جائیں گے اور لوگ قرآن پڑھیں گے اس زمانہ کی ضرورت کو پورا کرنے والا مفہوم اس میں سے نکلتا آئے گا اور لوگ تسلیم کریں گے کہ ہاں قرآن کریم ہی اس زمانہ کے لئے بھی کافی ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی اس زمانہ کے لئے بھی رسول ہیں۔غرض فرمایا کہ قرآن کریم کو ہم نے ایسا بنایا ہے کہ یہ ہر زمانہ کے لیے کافی ہو گا۔اس میں ہر زمانہ کے خیالات پر بحث موجود ہو گی۔اگر اس زمانہ کے لوگوں کے خیالات غلط ہوں گے تو ان کی تردید کی جائے گی اور اگر صحیح ہوں گے تو تائید کی جائے گی۔در حقیقت قرآن کریم میں یہ ایک بہت بڑی خوبی ہے کہ جب وہ کوئی مضمون لیتا ہے تو اس کے تمام متعلقہ مضامین کو اس کے نیچے تہ بہ تہ جمع کر دیتا ہے۔بالکل اسی طرح جس طرح زمین کے طبقات ہوتے ہیں۔یہی حال قرآن کریم کا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ہر زمانہ کی ضرورت کے مطابق اس کے نئے نئے معانی اور مطالب نکلتے آئیں گے۔( تفسير كبير ، سورة العنكبوت، جلد۷ صفحه ۶۶۹۳۶۶۵) بَاب ٦ : تَأْلِيفُ الْقُرْآنِ قرآن کی ترتیب ٤٩٩٣: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى :۴۹۹۳: ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوْسُفَ أَنَّ ابْنَ ہشام بن یوسف نے ہمیں بتایا کہ ابن جریج نے انہیں بتایا۔انہوں نے کہا؛ اور یوسف بن ماہک نے بھی مجھے بتایا۔انہوں نے کہا: میں حضرت عائشہ بْنُ مَاهَكِ قَالَ إِنِّي عِنْدَ عَائِشَةَ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کے پاس تھا کہ اُن کے أُمِّ الْمُؤْمِنِيْنَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا إِذْ پاس ایک عراقی آیا اور اس نے پوچھا: کونسا کفن جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ قَالَ وَأَخْبَرَنِي يُوْسُفُ