صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 458 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 458

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۵۸ ۶۵ - كتاب التفسير / اذا زلزلت الارض چیز جس کو نکالنا مقصود ہے اس کو اس آیت کے ذریعہ نکال دیا گیا ہے اور ہر چیز جس کو سمیٹنا مقصود ہے اس کو اس آیت کے ذریعہ سمیٹ لیا گیا ہے۔ گویا یہ آیت جزائے خیر و شر کے متعلق ایک جامع مانع قاعدہ پر مشتمل ہے۔ جزائے خیر اور جزائے شر سے تعلق رکھنے والی کوئی بات نہیں جو اس میں بیان نہ کی گئی ہو۔“ ( تفسير كبير ، سورۃ الزلزال، فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ۔۔۔ ، جلد ۹ صفحه ۴۵۹) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”ہمارے علماء نے جو ظاہری طور پر اس سورۃ الزلزال کی یہ تفسیر کی ہے کہ در حقیقت زمین کو آخری دنوں میں سخت زلزلہ آئے گا اور وہ زلزلہ ایسا ہو گا کہ تمام زمین اس سے زیر و زبر ہو جائے گی اور جو زمین کے اندر چیزیں ہیں وہ سب باہر آجائیں گی اور انسان یعنی کافر لوگ زمین کو پوچھیں گے کہ تجھے کیا ہو اتب اُس روز زمین باتیں کرے گی اور اپنا حال بتائے گی۔ یہ سراسر غلط تفسیر ہے کہ جو قرآن شریف کے سیاق و سباق سے مخالف ہے۔ اگر قرآن شریف کے اس مقام پر بنظر غور تدبر کرو تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دونوں سورتیں یعنی سورۃ البینہ اور سورة الزلزال، سورۃ لیلۃ القدر کے متعلق ہیں اور آخری زمانہ تک اس کا کل حال بتلارہی ہیں ماسوا اس کے کہ ہر یک عقل سلیم سوچ سکتی ہے کہ ایسے بڑے زلزلہ کے وقت میں کہ جب ساری زمین تہ و بالا ہو جائے گی ایسے کافر کہاں زندہ رہیں گے۔ جو زمین سے اُس کے حالات استفسار کریں گے کیا ممکن ہے کہ زمین تو ساری زیر و زبر ہو جائے یہاں تک کہ اوپر کا طبقہ اندر اور اندر کا طبقہ باہر آجائے اور پھر لوگ زندہ بچ رہیں بلکہ اس جگہ زمین سے مراد زمین کے رہنے والے ہیں اور یہ عام محاوره قرآن شریف کا ہے کہ زمین کے لفظ سے انسانوں کے دل اور ان کے باطنی قوی مراد ہوتے ہیں جیسا کہ اللہ جل شانہ ایک جگہ فرماتا ہے : اعْلَمُوا أَنَّ اللهَ يُحْيِي الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا (الحدید : ۱۸) کے اور جیسا کہ فرماتا ہے: وَالْبَلَدُ الطَّيِّبُ يَخْرُجُ نَبَاتُهُ بِإِذْنِ رَبِّهِ ۚ وَالَّذِي خَبُثَ لَا يَخْرُجُ إِلَّا نَكِدا (الاعراف: ۵۹) ا ترجمه حضرت خليفة المسيح الرابع : ” جان لو کہ اللہ زمین کو اس کی موت کے بعد ضرور زندہ کرتا ہے۔“ ترجمه حضرت خليفة المسيح الرابع : ” اور پاک ملک (وہ ہوتا ہے کہ) اس کا سبزہ اس کے رب کے اذن سے پاک ہی) نکلتا ہے اور جو نا پاک ہو ( اس میں ) کچھ نہیں نکلتا مگر روی (چیز)