صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 452
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۵۲ ۶۵ - كتاب التفسير الميكن ٩٨ - سُورَةُ لَمْ يَكُن بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ اللہ کے نام کے ساتھ جو رحمن اور رحیم ہے منفكين ( البيئة: ٢) زَائِلِينَ، قَيْمَةٌ مُنْفَدِّيْنَ کے معنی ہیں بٹنے والے۔قیمہ کے معنی (البيئة : ٤ ) الْقَائِمَةُ، دِینُ الْقَيِّمَةِ میں پائیدار۔دِینُ الْقَيِّمَةِ میں دین کو مؤنث کی البيئة: ٦) أَضَافَ الدِّينَ إِلَى الْمُؤَنَّثِ طرف مضاف کیا گیا ہے۔ود ریح: سورة لم يكن : گذشتہ سورۃ میں بتایا گیا تھا کہ ہر نبی کو اپنے زمانے میں لیلتہ القدر عطا کی جاتی ہے جس میں ایک بڑا حصہ اس قوم اور زمانے سے تعلق رکھتا ہے اور کچھ دائمی صداقتیں ہیں جو ہمیشہ کے لیے قائم رہنے والی ہیں۔مگر اب قرآن کریم کی صورت میں ایک ایسی بینہ آگئی ہے جو قیامت تک کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے کافی ہے۔مُنْفَكَيْنَ اِنْفَك سے اسم فاعل جمع کا صیغہ ہے اور انفكَ فَك سے انفعال کا صیغہ ہے فلک کے اصل معنے کھولنے یا جدا کرنے کے ہوتے ہیں۔پس انفال کے معنے ہوئے گھل گیا یا جدا ہو گیا۔اور جب محارہ میں مَا انْفَكَ يَفْعَلُ كَذَا کہیں تو اس کے معنے ہوتے ہیں مازال وہ کوئی کام کرتا چلا گیا ان معنوں میں ما انفك، تحان کے اخوات میں شمار ہوتا ہے چونکہ انفك کے معنے الگ ہو جانے کے ہیں اس لئے جب اس سے پہلے نفی آجائے تو اس کے معنے اثبات کے بن جاتے ہیں اور اس صورت میں وہ کسی چیز کے تسلسل کے ساتھ ہونے کے معنے دیتا ہے۔(اقرب الموارد فكك) قَيْمَةُ : القَيمُ عَلَى الأمر - مُتَوَلّیه یعنی جب یہ کہا جائے کہ فلاں کام پر فلاں شخص قیمہ ہے تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ وہ اُس کا متولی ہے۔اور اگر کوئی عورت متولیہ ہو تو اسے قیمہ کہا جائے گا۔وَالْقَيْمَةُ الدِّيَانَةُ الْمُسْتَقِيمَةُ یعنی القيمة کے ایک معنے ایسے مذہب کے بھی ہوتے ہیں جس میں کوئی کبھی نہ پائی جاتی ہو۔(اقرب الموارد قوم) دين القيمة میں دین کو مؤنث کی طرف مضاف کیا گیا ہے۔علامہ عینی لکھتے ہیں کہ یہاں دین سے مراد ملت ہے اور القيمة اس کی صفت بیان کی گئی ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحہ ۳۰۹) باب ۱ ٤٩٥٩ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا :۴۹۵۹ محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ غندر غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ نے ہمیں بتایا، انہوں نے کہا:) شعبہ نے ہم سے عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ بیان کیا۔انہوں نے کہا: میں نے قتادہ سے سناء النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَي اُنہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ لَمْ يَكُن روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابی