صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 325 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 325

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۲۵ و ٧٥ سُورَةُ الْقِيَامَةِ ۶۵ - کتاب التفسير / القيامة بَاب :١ : لَا تُحَرِّكُ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِه (القيامة : ١٧) اللہ تعالیٰ کا فرمانا :) تو اس کے ساتھ اپنی زبان کو مت ہلا تا کہ اسے جلدی سے یاد کر لے وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسِ لِيَفْجُرَ أَمَامَهُ اور حضرت ابن عباس نے کہا: لِيَفْجُرَ آمَامَةَ سے (القيامة : ٦) سَوْفَ أَتُوبُ، سَوْفَ یہ مراد ہے کہ (گناہ کرتا رہے اور کہے کہ) میں أَعْمَلُ۔لَا وَزَرَ (القيامة : ۱۲) لَا حِصْنَ عنقریب توبہ کرلوں گا، عنقریب عمل کروں گا۔شدي (القيامة: ٣٧) هَمَلًا۔لا ورد کے معنی ہیں کوئی پناہ کا مقام نہیں۔شدی کے معنی ہیں آزاد چھوڑا ہوا۔٤٩٢٧: حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا ۴۹۲۷ : حمیدی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن سُفْيَانُ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ عیینہ نے ہمیں بتایا کہ موسیٰ بن ابی عائشہ نے ہم وَكَانَ لِقَةً عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ سے بیان کیا۔اور یہ معتبر شخص تھے۔انہوں نے ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب آپ پر وحی نازل ہوتی تو اپنی زبان کو ہلاتے۔آپ چاہتے تھے کہ اس طرح سُفْيَانُ يُرِيدُ أَنْ يَحْفَظَهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ لَا عَلَيْهِ الْوَحْيُ حَرَّكَ بِهِ لِسَانَهُ وَوَصَفَ تُحَرِّكُ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِه أطرافه یاد کریں۔اور سفیان نے زبان ہلا کر) بتایا کہ اس طرح ہلاتے تھے) تو اللہ نے یہ آیت (القيامة: ١٧) نازل کی : لا تُحرك ہے۔یعنی تو اس کے ساتھ اپنی -٤، ٥٠٤٤، ٧٥٢٤۹۲۹ ،۱۹۲۸ ،۵ زبان کو مت ہلا تا کہ اسے جلدی سے یاد کرلے۔تشريح: سُورَةُ القيامة: حضر خلیفة الحج الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس سورت کے آغاز میں یوم قیامت کو ہی گواہ ٹھہرایا گیا ہے اور اس نفس کو بھی جو بار بار اپنے آپ کو ملامت کرتا ہے اور اگر انسان اس ملامت سے فائدہ اٹھالے تو ہزار قسم کے گناہوں سے بچ سکتا ہے۔