صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 119 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 119

صحيح البخاری جلد 19 ۶۵ کتاب التفسير / الفرقان الَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللهِ اِلَهَا أَخَرَ وَلاَ کہ تم اپنی اولاد کو اس خوف سے مار ڈالو کہ وہ يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلا تمہارے ساتھ کھائیں گے۔میں نے پوچھا: پھر بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ (الفرقان: ٦٩) (اس کے بعد کونسا؟ آپ نے فرمایا: یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو۔حضرت عبد اللہ بن مسعود کہتے تھے کہ یہ آیت رسول اللہ صلی ال وتم کے قول کی تصدیق میں نازل ہوئی ہے : اور وہ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ اللہ کے سوا کسی اور معبود کو نہیں پکارتے اور نہ کسی جان کو جسے اللہ نے حفاظت بخشی ہو قتل کرتے ہیں سوائے (شرعی) حق کے۔اور نہ زنا کرتے ہیں۔أطرافه : ٤٤٧٧، ۲۰۰۱، ٦۸۱۱، ٦٨٦١ ، ٧٥٢٠ ٧٥٣٢- ٤٧٦٢ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى :۴۷۶۲ ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا۔أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوْسُفَ أَنَّ ابْنَ ہشام بن یوسف نے ہمیں بتایا۔ابن جریج نے ان جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ قَالَ أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ کو خبر دی، کہا: قاسم بن ابی بزہ نے مجھے بتایا۔انہوں نے سعید بن جبیر سے پوچھا کہ کیا اس بْنُ أَبِي بَزَّةَ أَنَّهُ سَأَلَ سَعِيْدَ بْنَ جُبَيْرٍ شخص کی بھی کوئی تو بہ ہے جس نے مومن کو عمداً مار ڈالا۔میں نے ان کے سامنے یہ آیت پڑھی و ، هَلْ لِمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا مِنْ تَوْبَةٍ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي لَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ تو حَرَّمَ اللهُ إِلَّا بِالْحَقِّ (الفرقان : ٦٩) سعید نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس کے سامنے فَقَالَ سَعِيْدٌ قَرَأْتُهَا عَلَى ابْنِ عَبَّاسِ یہی آیت پڑھی تھی جس طرح آپ نے میرے كَمَا قَرَأْتَهَا عَلَيَّ فَقَالَ هَذِهِ مَكَّيَّةٌ سامنے پڑھی ہے تو انہوں نے کہا یہ مکی آیت ہے۔نَسَخَتْهَا آيَةٌ مَدَنِيَّةُ الَّتِي فِي سُورَةِ ایک مدنی آیت نے یہ آیت منسوخ کر دی ہے۔یعنی وہ آیت جو سورۃ النساء میں ہے (یعنی وَمَنْ النِّسَاءِ۔يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ۔۔۔۔أطرافه : ٣٨٥٥، ٤٥٩٠ ، ٤٧٦٣، ٤٧٦٤، ٤٧٦٥، ٤٧٦٦- ا ترجمه حضرت خلیفۃ المسیح الرابع : ” اور کسی ایسی جان کو جسے اللہ نے حرمت بخشی ہو ناحق قتل نہیں کرتے۔“