صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 60
صحيح البخاری جلد ۱۰ ۶۰ ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة قَالَ هِيَ مَنْسُوْحَةٌ۔طرفه: ١٩٤٩ - (سورۃ بقرہ کی آیت نمبر ۱۸۵ کو یوں پڑھا: فِدْيَةٌ طَعَامُ مَسَاكِينَ۔کہا: یہ منسوخ ہے۔٤٥٠٧ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا بَكْرُ ۴۵۰۷: قتیبہ بن سعید ) نے ہم سے بیان کیا کہ بکر بْنُ مُضَرَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بن مُصر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عمرو بن حارث عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنْ يَزِيدَ سے، عمرو نے نگیر بن عبد اللہ سے، نگیر نے مَوْلَى سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَع عَنْ سَلَمَةَ حضرت سلمہ بن اکوع کے آزاد کردہ غلام یزید سے، قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَه یزید نے حضرت سلمہ بن اکوع ) سے روایت کی کہ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينِ (البقرة: (١٨٥) انہوں نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی: وَ عَلی الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ جو كَانَ مَنْ أَرَادَ أَنْ يُفْطِرَ وَيَفْتَدِيَ روزہ نہ رکھتا اور فدیہ دینا چاہتا تو ایسا کر لیتا، یہاں تک کہ وہ آیت جو اس کے بعد ہے نازل ہوئی۔( یعنی فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُهُ ) تو اس آیت نے اس کو منسوخ کر دیا۔ابو عبد اللہ (امام بخاری نے کہا: بگیر (جو یزید کے شاگردتھے) حَتَّى نَزَلَتِ الْآيَةُ الَّتِي بَعْدَهَا فَنَسَخَتْهَا۔قَالَ أَبُو عَبْد الله } مَاتَ بُكَيْرٌ قَبْلَ يَزِيدَ۔یزید سے پہلے فوت ہو گئے۔تشریح: فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ : اس باب کی دونوں روایتیں منع ہیں۔علاوہ ازیں امام بخاری نے دوسری روایت سے متعلق یہ جرح کی ہے کہ نگیر راوی یزید سے پہلے فوت ہو گئے تھے۔ان کی ملاقات نہیں ہوئی تو ان سے سنا اور روایت کرنا کیسا ہے ؟! نگیر ۱۲۰ ھ میں اور یزید بن ابی عبید ۱۴۶، ۱۲۷ھ میں فوت ہوئے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۲۷) فَنَسَخَعُهَا: ایک آیت کے نزول سے ایک مضمون سمجھا جاتا جو پوری طرح درست نہ ہو تا تو بعد میں نازل ہونے والی آیت اس غلط تشریح اور مفہوم کو منسوخ کر کے اس مضمون کی صحیح صورت واضح کر دیتی۔وو یہ الفاظ مستملی کے نسخہ کے مطابق ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۲۷) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع :" اور جو لوگ اس کی طاقت رکھتے ہوں ان پر فدیہ ایک کو کھانا کھلانا ہے۔“ كين ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع " پس جو بھی تم میں سے اس مہینے کو دیکھے تو اس کے روزے رکھے۔“