صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 45 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 45

صحيح البخاری جلد ۱۰ عَنِ ۴۵ ۶۵ کتاب التفسير / البقرة ابْنِ عُمَرَ قَالَ بَيْنَا النَّاسُ بِقُبَاءٍ عبداللہ نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کی۔فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ إِذْ جَاءَهُمْ آتِ انہوں نے کہا: اس اثنا میں کہ لوگ ایک بار قباء فَقَالَ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ میں صبح کی نماز میں تھے ، ان کے پاس آنے والا قَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ اللَّيْلَةَ قُرْآنٌ وَقَدْ آیا۔اس نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر آج رات أُمِرَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةَ فَاسْتَقْبِلُوْهَا قرآن اترا ہے اور حکم ہوا ہے کہ کعبہ کو قبلہ بنائیں۔اس لئے تم بھی کعبہ کو قبلہ بناؤ۔ان کے وَكَانَتْ وُجُوهُهُمْ إِلَى الشَّامِ فَاسْتَدَارُوْا منہ شام کی طرف تھے (یہ سن کر) وہ کعبہ کی إِلَى الْكَعْبَةِ۔طرف پھر گئے۔أطرافه ٤٠٣ ٤٤٨٨، ٤٤٩٠ ، ٤٤٩٣، ٤٤٩٤، ٧٢٥١ - تشريح: الَّذِينَ أَتَيْنَهُمُ الْكِتَبَ يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ : اس باب میں بھی حضرت عبد اللہ بن عمر والی روایت نئی سند سے دُہرائی گئی ہے۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے فرمانبرداری کے لئے انشراح صدر کا عملی نمونہ دکھایا، جس سے ظاہر ہے کہ وہ کتاب اللہ سے متعلق علی وجہ البصیرت قائم تھے۔مذکورہ بالا روایت معنونہ آیت کے تحت نقل کرنے سے ظاہر ہے کہ امام بخاری کے نزدیک الَّذِینَ آتَيْنَهُم الکتب سے صحابہ کرام اور ان کے علاوہ اسلام کو علی وجہ البصیرت قبول کرنے والے لوگ ہیں۔بعض نے اہل کتاب بھی ان معنوں میں مراد لئے ہیں کہ ان میں انبیاء بکثرت آئے ہیں اور اس وجہ سے وہ ان کی خصوصیات اور مشیت الہیہ سے واقف ہیں اور اس علم کلام کو بھی اچھی طرح پہچان سکتے ہیں جو رسولِ عربی کو دیا گیا اور جن کے بارے میں صراحت ہے : ” میں اُن کے لیے ان ہی کے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کروں گا۔(استثناء باب ۱۸: ۱۸) ، باب ۱۸: وَلِكُلّ وَجْهَةٌ هُوَ مُوَلِيْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ أَيْنَ مَا تَكُونُوا يَأْتِ بِكُمُ اللهُ جَمِيعًا إِنَّ اللهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِير ( البقرة : ١٤٩) اور ہر ایک کے لئے ایک جہت ہے جس کی طرف وہ رُخ کئے ہوئے ہے۔تم نیکیوں میں بڑھ جاؤ۔جہاں کہیں بھی تم ہو گے اللہ تم سبھی کو لے آئے گا۔اللہ ہر ایک بات پر قادر ہے۔٤٤٩٢: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى :۴۴۹۳ محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ يحي حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنِي (بن سعید) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سفیان أَبُو إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ الله (ثوری) سے روایت کی کہ ابو اسحاق نے مجھ سے