صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 228
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۲۲۸ ۶۵ - كتاب التفسير / النساء شريح : إِنَّا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ۔۔۔وَيُونُسَ : اس اسلوب خطاب کا تعلق بھی اس کلام الہی سے ہے جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح سر فراز فرمائے گئے۔چنانچہ یہ آیت یوں شروع ہوتی ہے: اِنَّا اَوْحَيْنَا إِلَيْكَ كَمَا أَوْحَيْنَا إِلى نُوح وَالشَّهِينَ مِنْ بَعْدِهِ وَأَوْحَيْنَا إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَاسْعِيلَ وَاسْحَقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَعِيسَى وَ أَيُّوبَ وَيُون وَهُرُونَ وَسُلَيْنَ وَأَتَيْنَا دَاوُدَ زَبُورًا وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْتُهُمْ عَلَيْكَ مِن قَبْلُ وَرُسُلاً لَمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَيْكَ وَكَلَّمَ اللهُ مُوسى تَکلیمات (النساء:۱۶۵،۱۶۴) جس طرح ہم نے نوح اور اس کے بعد (دوسرے) تمام ابنیاء پر وحی (نازل) کی تھی یقینا تجھ پر (بھی) ہم نے وحی (نازل) کی ہے اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور (اس کی) اولاد اور عیسی اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان پر (بھی) وحی ( نازل) کی تھی اور ہم نے داؤد کو (بھی) ایک کتاب دی تھی اور کئی ایسے رسول ہیں جن کی خبر ہم (اس سے) پہلے تجھے دے چکے ہیں اور کئی ایسے رسول ہیں جن کا ذکر ہم نے تجھ سے نہیں کیا اور اللہ نے موسیٰ سے خوب اچھی طرح کلام کیا تھا۔اس آیت کا حوالہ بھی امام بخاری کے اسی نقطۂ نظر کی تائید میں ہے کہ انبیاء کے ذکر سے دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی مقصود بالذات ہیں۔زیر باب روایات میں آنحضرت صلی اللہ ﷺ نے جو حضرت یونس بن مٹی سے فضیلت کے بیان کی نفی کی ہے یہ در حقیقت انکسار اور تذلیل کا اظہار ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اس حدیث سے یہی مراد لی ہے۔آپ نے ایک موقع پر فرمایا: ط قل إن كُنتُم تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ وَيَغْفِرُ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيم O (آل عمران (۳۲) فَقُلْ أَسْلَمْتُ وَجْهِيَ لِلَّهِ (آل عمران: ۲۱) وَأُمِرْتُ أَنْ أَسْلِمَ لِرَبِّ الْعَلَمِينَ (المومن : ۶۷) یعنی ان کو کہدے کہ میری نماز اور میری پرستش میں جد و جہد اور میری قربانیاں اور میرازندہ رہنا اور میرا مر ناسب خدا کے لئے اور اس کی راہ میں ہے۔وہی خدا جو تمام عالموں کا رب ہے جس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے اور میں اول المسلمین ہوں یعنی دنیا کی ابتداء سے اس کے اخیر تک میرے جیسا اور کوئی کامل انسان نہیں جو ایسا اعلیٰ درجہ کا فنا فی اللہ ہو جو خدا تعالی کی ساری امانتیں اس کو واپس دینے والا ہو۔اس آیت میں ان نادان موحدوں کا رڈ ہے جو یہ اعتقاد رکھتے ہیں