صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 199 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 199

صحیح البخاری جلد ۱۰ ١٩٩ 38/7/ ۶۵ - کتاب التفسير / النساء مريح : فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحِكَمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ : پوری آیت یہ ہے : فَلَا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُ وَافَى أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تسلیمان (النساء : ۶۲) ترجمہ: پس تیرے رب کی قسم ہے کہ جب تک وہ ( ہر ) اس بات میں جس کے متعلق ان میں جھگڑا ہو جائے تجھے حکم نہ بنائیں (اور) پھر جو فیصلہ تو کرے اس سے اپنے نفوس میں کسی قسم کی تنگی نہ پائیں اور پورے طور پر فرمانبردار (نہ) ہو جائیں ہر گزایمان دار نہ ہوں گے۔واقعہ مذکورۃ الصدر سے بھی تطبیق آیت مراد ہے جیسا کہ الفاظ فَمَا أَحْسِبُ دلالت کرتے ہیں۔آنحضرت صلی لی کر کے پہلے فیصلہ میں وسعت درعایت تھی جس سے انصاری نے فائدہ نہ اٹھایا اور حضرت زبیر کو ان کا پورا حق دیا گیا۔بَاب ۱۳ : فَأُولَبِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِينَ ( النساء:۷۰) اللہ تعالیٰ کا فرمانا :) یعنی وہ لوگ انہی کے ساتھ ہیں جن پر اللہ نے انعام کیا یعنی نبیوں کے ساتھ رَضِيَ ٤٥٨٦ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ :۴۵۸۶ محمد بن عبد اللہ بن حوشب نے ہم سے بْنِ حَوْشَبٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدِ بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔انہوں عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ نے اپنے باپ ( سعد بن ابراہیم) سے ، انہوں نے ، عروہ سے ، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ روایت کی کہ وہ فرماتی تھیں: میں نے رسول اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ الالم سے سنا۔آپ فرماتے تھے: جو نبی بیمار ہوتا نَّبِيِّ يَمْرَضُ إِلَّا خَيْرَ بَيْنَ الدُّنْيَا ہے تو اس کو دنیا اور آخرت کے بارے میں اختیار وَالْآخِرَةِ وَكَانَ فِي شَكْوَاهُ الَّذِي قُبِضَ دیا جاتا ہے اور آپ کو اس بیماری میں جس میں فِيهِ أَخَذَتْهُ بُجَّةٌ شَدِيدَةٌ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ آپ اٹھائے گئے تھے۔آپ کا گلا سخت بیٹھ گیا مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيِّنَ تھا۔میں نے آپ کو سنا، فرماتے تھے: وہ ان لوگوں میں شامل ہوں گے جن پر اللہ نے انعام و الصّديقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّلِحِينَ کیا ہے۔یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور (النساء: ٧٠) فَعَلِمْتُ أَنَّهُ خُيْرَ۔صالحین (میں)، تو میں اس سے سمجھ گئی کہ آپ کو اختیار دیا گیا ہے۔أطرافة: ٤٤٣٥ ٤٤٣٦ ٤٤٣٧ ، ٤٤٦٣ ٠٦٣٤٨ ٦٥٠٩ -